مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عمر بن الخطاب ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 34138
٣٤١٣٨ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "بينا أنا (أسقي) (١) على بئر اذ جاء ابن أبي ⦗٢٢⦘ قحافة فنزع ذنوبًا أو ذنوبين فيهما ضعف واللَّه يغفر له، ثم جاء عمر فنزع حتى استحالت في يده غربًا، وضرب الناس (بالعطن) (٢) فما رأيت عبقريًا يفري فريه" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس درمیان کہ میں کنویں پر پانی پی رہا تھا کہ ابن ابی قحافہ آئے پس انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے بڑی کمزوری سے ، اور اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر عمر بن خطاب نے آ کر ڈول کھینچا یہاں تک کہ ان کے ہاتھ میں چمڑے کے ڈول کے نشان پڑگئے اور لوگ پانی کے قریب بیٹھ گئے ۔ پس میں نے ایسا کوئی زورآور شخص نہیں دیکھا جو ان جیسا حیرت انگیز کام کرتا ہو۔
حواشی
(١) في [م]: (أستقي).
(٢) في [أ، ب]: (بعطن).