٣٤٠٨٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي الطفيل قال: سئل علي عن ذي القرنين فقال: لم يكن نبيًا ولا ملكًا، ولكنه كان (عبدا) (١) ناصح اللَّه فنصحه، فدعا قومه إلى اللَّه فضرب على قرنه الأيمن ⦗٥٣٦⦘ (فمات) (٢) فأحياه اللَّه، ثم دعا قومه إلى اللَّه فضرب على قرنه (٣) فمات فأحياه اللَّه فسمي ذا القرنين (٤).ابو طفیل ایک دوسری سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ نبی تھے نہ بادشاہ ، بلکہ وہ ایک نیک بندے تھے جنہوں نے اللہ سے خیرخواہی کی تو اللہ نے ان کے ساتھ خیر خواہی کی، چناچہ آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی، اور آپ کے سر کے دائیں جانب مارا گیا اور وہ مرگئے تو اللہ نے ان کو پھر زندہ کردیا، اور پھر انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا ، اور دوبارہ ان کے سر کی بائیں جانب مارا گیا تو وہ دوبارہ مرگئے ، چناچہ اللہ نے ان کو دوبارہ زندہ کردیا، اس لیے ان کا نام ” ذوالقرنین “ مشہور ہوگیا۔