مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر من أمر داود ﵇ وتواضعه باب: سیدنا داؤد علیہ السلام اور ان کی تواضع کا ذکر
٣٤٠٦٠ - قال علي بن زيد: وحدثني خليفة عن ابن عباس أن داود حدث نفسه إن ابتُليَّ أن يعتصم، فقيل له: إنك ستبتلى وتعلم اليوم الذي تبتلى فيه فخذ حذرك، فقيل له: هذا اليوم الذي تبتلى فيه، فأخذ الزبور فوضعه في حجره، وأغلق باب المحراب، وأقعد منصفًا على الباب، وقال: لا تأذن لأحد علي اليوم، فبينما هو يقرأ الزبور إذ جاء طائر مذهب كأحسن ما يكون الطير، فيه من كل لون فجعل يدرج بين يديه فدنا منه، فأمكن أن يأخذه فتناوله بيده ليأخذه (فاستوفزه) (١) من خلفه، فأطبق الزبور وقام إليه ليأخذه، فطار فوقع على كوة المحراب، فدنا منه أيضا ليأخذه فوقع على (خص) (٢) فأشرف عليه لينظر أين وقع، فإذا هو بالمرأة ⦗٥٢٨⦘ عند (بركتها) (٣) تغتسل من المحيض، فلما رأت ظله حركت رأسها فغطت جسدها بشعرها، فقال داود للمنصف: اذهب فقل لفلانة تجيء، فأتاها فقال (لها) (٤): إن نبي اللَّه يدعوك، فقالت: ما لي ولنبي اللَّه؟ إن كانت له حاجة فليأتني أما أنا فلا آتيه، فأتاه المنصف فأخبره بقولها، فأتاها وأغلقت الباب دونه، فقالت: مالك يا داود؟ أما تعلم أنه من فعل هذا رجمتموها، ووعظته فرجع، وكان زوجها غازيًا في سبيل اللَّه فكتب داود ﵇ (٥) إلى أمير (المغزى) (٦): انظر أوريا فاجعله في حملة التابوت، (وكان حملة التابوت إما أن يفتح عليهم وإما أن يقتلوا، فقدمه في حملة التابوت) (٧) فقتل، فلما انقضت عدتها خطبها فاشترطت عليه: إن ولدت كلامًا أن يجعله الخليفة من بعده، وأشهدت عليه خمسين من بني إسرائيل وكتبت عليه بذلك كتابًا، فما شعر بفتنته أنه فتن حتى ولدت سليمان وشب، فتسور (الملكان) (٨) عليه المحراب، فكان من شأنهما ما قص اللَّه (٩) وخر داود ساجدا فغفر اللَّه له (وتاب) (١٠)، وتاب اللَّه عليه، فطلقها (وجفا) (١١) سليمان وأبعده. ⦗٥٢٩⦘ فبينما هو (معه) (١٢) في مسيرله وهو في ناحية القوم إذ أتى على غلمان (له) (١٣) يلعبون، فجعلوا يقولون: يا لادين يا لادين، فوقف داود فقال: ما شأن هذا يسمى لادين؟ فقال سليمان وهو في ناحية القوم: أما أنه لو سألني عن (هذه) (١٤) لأخبرته (بأمره) (١٥)، فقيل لداود: إن سليمان قال: كذا وكذا، فدعاه (فقال) (١٦): ما شأن هذا الغلام سمي لادين؟ فقال: سأعلم لك علم ذلك، فسأل سليمان عن أبيه: كيف كان أمره؟ فقيل (له) (١٧): إن أباه كان في سفر له مع أصحاب له، وكان كثير المال فأرادوا قتله، فأوصاهم فقال: إني تركت امرأتي حبلى، فإن ولدت غلامًا فقولوا لها: تسميه لادين، فبعث سليمان إلى أصحابه، فجاؤا فخلا بأحدهم فلم يزل حتى أقر، وخلا بالآخرين فلم يزل بهم حتى أقروا كلهم، فرفعهم إلى داود فقتلهم، فعطف عليه بعض العطف. وكانت امرأة عابدة من بني إسرائيل وكانت تبتلت، وكانت لها جاريتان (جميلتان) (١٨) وقد (تبتلت) (١٩) المرأة لا تريد الرجال، فقالت إحدى الجاريتين للأخرى: قد طال علينا هذا البلاء، أما هذه فلا تريد الرجال، (ولا نزال) (٢٠) بشر ما ⦗٥٣٠⦘ كنا لها، فلو أنا فضحناها فرجمت، فصرنا إلى الوجال، فأخذتا ماء البيض فأتتاها وهي ساجدة فكشفتا عنها ثوبها، ونضحتا في دبرها ماء البيض وصرختا: إنها قد بغت، وكان من زنا (فيهم) (٢١) حده الرجم، فرفعت إلى داود ﵇ (٢٢) وماء البيض في ثيابها فأراد رجمها، فقال سليمان: أما أنه لو سألني (لأنبأته) (٢٣)، فقيل لداود: إن سليمان قال: كذا وكذا، فدعاه فقال: ما شأن هذه؟ ما أمرها؟ فقال: ائتوني بنار فإنه إن كان ماء الرجال تفرق، وإن كان ماء البيض اجتمع، فأتي بنار فوضعها عليه فاجتمع فدرأ عنها (الرجم) (٢٤)، وعطف عليه بعض العطف وأحبه. ثم كان بعد ذلك أصحاب الحرث وأصحاب (الشاء) (٢٥)، فقضى داود ﵇ (٢٦) لأصحاب الحرث بالغنم، فخرجوا وخرجت الوعاء معهم الكلاب، فقال سليمان: كيف قضى بينكم؟ فأخبروه، فقال: لو وليت أمرهم لقضيت بينهم بغير هذا القضاء، فقيل لداود: إن سليمان يقول: كذا وكذا، فدعاه فقال: كيف تقضي؟ فقال: ادفع الغنم إلى أصحاب الحرث هذا العام، (فيكون) (٢٧) لهم أولادها (وسلاها) (٢٨) وألبانها ومنافعها (لهم العام) (٢٩)، ويبذر هؤلاء مثل حرثهم، فإذا بلغ ⦗٥٣١⦘ الحرث الذي كان عليه أخذ هؤلاء الحرث ودفع هؤلاء (إلى هؤلاء) (٣٠) الغنم، قال: فعطف عليه (٣١).خلیفہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے دل میں یہ بات آئی کہ اگر وہ آزمائش میں ڈالے جائیں گے تو محفوظ رہیں گے، ان سے کہا گیا کہ تم عنقریب آزمائش میں ڈالے جاؤ گے، اور تمہیں اس دن کا علم ہوجائے گا جس میں تمہیں آزمائش میں ڈالا جائے گا، اس لیے احتیاط رکھو، چناچہ ان سے کہا گیا کہ آج تمہیں آزمایا جائے گا، چناچہ آپ نے زبور پکڑی اور اپنی بغل میں لی اور محراب کا دروازہ بند کردیا اور دروازے پر خادم کو بٹھایا اور فرمایا کہ آج کسی کو مت آنے دینا۔ (٢) چناچہ آپ زبور پڑھ رہے تھے کہ ایک خوبصورت پرندہ آیا جس میں مختلف رنگ تھے، اور وہ آپ کے پاس آنے لگا، اور قریب ہوگیا، اور آپ کو اسے اٹھانے کی قدرت ہوگئی، آپ نے اس کو ہاتھ میں لینے کا ارادہ کیا تو وہ کود کر آپ کے پیچھے چلا گیا، چناچہ آپ نے زبور بند کی اور اس کو پکڑنے کے لیے اٹھے ، لیکن وہ اڑ کر محراب کے روشن دان پر بیٹھ گیا، آپ اس کے قریب ہوئے تو وہ ایک گھونسلے میں داخل ہوگیا، آپ نے اس کو جھانکا تاکہ اس کو دیکھیں کہ کہاں گیا ہے اچانک آپ کی نظر ایک عورت پر پڑی جو اپنے حوض کے پاس حیض کا غسل کر رہی تھی، جب اس نے آپ کا سایہ دیکھا تو اپنے سر کو حرکت دی اور اپنے جسم کو اپنے بالوں سے چھپالیا حضرت داؤد علیہ السلام نے خادم سے کہا کہ جاؤ اور فلاں عورت سے کہو کہ میرے پاس آئے ، اس نے جا کر اس عورت سے کہا کہ اللہ کے نبی تمہیں بلا رہے ہیں، وہ کہنے لگی کہ اللہ کے نبی سے مجھ کو کیا کام ؟ اگر انہیں کوئی ضرورت ہے تو میرے پاس آجائیں ، میں تو ان کے پاس نہیں جاتی، خادم آپ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی بات بتائی، آپ اس کے پاس گئے تو اس نے دروازہ بند کرلیا اور کہنے لگی داؤد علیہ السلام تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیا تم نہیں جانتے کہ جو ایسا کرتا ہے تم اس کو سنگسار کرتے ہو ؟ اور اس نے آپ کو نصیحت کی تو آپ واپس لوٹ گئے۔ (٣) اور اس عورت کا شوہر اللہ کے راستے میں مجاہد تھا، چناچہ حضرت داؤد علیہ السلام نے جہاد کے امیر کو حکم دیا کہ اوریا کو ” حملۃ التابوت “ میں شامل کردو، اور ” حملۃ التابوت “ وہ فوج تھی جن کو یا فتح حاصل ہوتی یا و ہ قتل ہوجاتے تھے، چناچہ اس نے اس کو ” حملۃ التابوت “ میں شامل کر کے آگے بھیج دیا، اور وہ قتل ہوگیا، جب اس عورت کی عدت ختم ہوئی تو آپ نے اس کو پیغام دیا، اس نے شرط لگائی کہ اگر اس کا لڑکا ہوا تو اس کو اپنے بعد خلیفہ بنائیں گے، اور اس پر بنی اسرائیل کے پچاس لوگوں کو گواہ بنایا، اور اس پر ایک تحریر لکھی، چناچہ آپ کو اپنی آزمائش کا احساس ہی نہ ہوا، یہاں تک کہ اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو جنا اور وہ جوان ہوگئے، پھر دو فرشتے ان کے پاس محراب پھلانگ کر آئے اور ان کا قصہ اللہ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے، اور داؤد علیہ السلام سجدے میں گرگئے ، چناچہ اللہ نے ان کی مغفرت فرما دی اور ان کی توبہ قبول فرما لی۔ (٤) چناچہ انہوں نے اس کو طلاق دے دی اور سلیمان علیہ السلام کو دور کردیا، چناچہ اس دوران ایک مرتبہ آپ ایک میدان سے گزر رہے تھے کہ اپنے لڑکوں کے پاس پہنچے جو کہہ رہے تھے، اے لادین ! اے لادین ! حضرت داؤد علیہ السلام ٹھہر گئے اور پوچھا کہ اس کا نام ” لادین “ کیوں رکھا گیا ہے ؟ سلیمان علیہ السلام جو ایک کونے میں تھے کہنے لگے کہ اگر مجھ سے پوچھیں تو میں ان کو بتادوں گا، داؤد علیہ السلام سے کہا گیا کہ سلیمان اس طرح کہہ رہے ہیں، آپ نے ان کو بلایا اور کہا کہ اس لڑکے کا نام ” لادین “ کیوں رکھا گیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں، حضرت سلیمان نے اس سے اس کے والد کے قصّے کے بارے میں پوچھا، تو ان کو بتایا گیا کہ اس کے والد اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک سفر پر گئے تھے، اور وہ بہت مالدار تھے، لوگوں نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے ان کو وصیت کی کہ میں نے اپنی بیوی کو حاملہ چھوڑا ہے، اگر وہ لڑکا جنے گا تو اس سے کہنا کہ اس کا نام ” لادین “ رکھے، چناچہ حضرت سلیمان نے اس کے ساتھیوں کو بلایا، وہ آئے تو انہوں نے ان میں سے ایک کے ساتھ خلوت کی، اور اس سے بات کرتے رہے یہاں تک کہ اس نے اقرار کرلیا، اور دوسروں کے ساتھ خلوت کی تو ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ سب نے اقرار کرلیا، چناچہ انہوں نے ان کو حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس بھیج دیا اور انہوں نے ان کو قتل کردیا، چناچہ آپ اس کے بعد ان پر کچھ مہربان ہوگئے۔ (٥) اور بنی اسرائیل میں ایک عابدہ عورت تھی اور وہ رہبانیت اختیار کیے ہوئے تھی ، اس کی دو خوبصورت باندیاں تھیں، اور وہ عورت مردوں سے کوئی تعلق نہ رکھتی تھی، چناچہ ان میں سے ایک باندی نے دوسری سے کہا کہ ہم پر یہ مصیبت لمبی ہوگئی ہے، یہ تو مردوں کو چاہتی نہیں، اور ہم جب تک اس کے پاس رہیں گی بری حالت میں رہیں گی، کیا اچھا ہو اگر ہم اس کو رسوا کردیں اور اس کو سنگسار کردیا جائے اور ہم مردوں کے پاس پہنچ جائیں، چناچہ انہوں نے انڈے کا پانی لیا اور اس کے پاس آئیں