مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل يصلي (بعض) صلاته لغير القبلة، من قال: (يعتد بها) باب: ایک آدمی قبلے کے علاوہ کسی اور طرف رخ کر کے نماز پڑھ لے اور اسے بعد میں علم ہو تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3405
٣٤٠٥ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن البراء بن عازب قال: صليت مع النبي ﷺ إلى بيت المقدس ستة عشر شهرا حتى نزلت الآية (التي) (١) في البقرة: ﴿وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ﴾ [البقرة: ١٤٤] فنزلت بعد ما صلى النبي ﷺ، فانطلق رجل من القوم فمر بناس من الأنصار وهم يصلون، فحدثهم بالحديث فولوا وجوههم قبل البيت (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ میں نے سولہ مہینے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی ہے۔ یہاں تک کہ سورة بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی { وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوہَکُمْ شَطْرَہُ } یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز پڑھنے کے بعد نازل ہوئی۔ چناچہ ایک آدمی کچھ انصاریوں کے پاس سے گذرا وہ نماز پڑھ رہے تھے، اس نے انہیں ساری بات بتائی تو انہوں نے اپنے چہروں کو قبلہ کی طرف پھیرلیا۔
حواشی
(١) سقط من: [أ].