مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما أعطه الله سليمان بن داود ﵇ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائیں
٣٤٠١٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن عبد اللَّه بن شداد قال: كان كرسي سليمان يوضع على الريح وكراسي من أراد من الجن والإنس، فاحتاج إلى الماء فلم يعلموا بمكانه، وتفقد الطير عند ذلك فلم يجد الهدهد فتوعده، وكان عذابه نتفَه وتشميسه، قال: فلما جاء استقبله الطير فقالوا: (قد توعدك) (١) سليمان، فقال الهدهد: (٢) استثنى، قالوا: نعم، ألا أن (يجيء) (٣) بعذر، وكان عذره أن جاء بخبر صاحبة سبأ قال: فكتب إليهم (٤) سليمان: ﴿(٥) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (٣٠) أَلَّا تَعْلُوا ⦗٥٠٩⦘ عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ﴾، قال: فأقبلت بلقيس، فلما كانت على قدر فرسخ قال سليمان: ﴿أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَنْ يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ﴾ قال عفريت من الجن: ﴿أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ﴾ قال: فقال: (سليمان) (٦) أريد أعجل من ذلك، (قال) (٧) الذي عنده علم من الكتاب: ﴿أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ﴾ [النمل: ٣٠ - ٣١، ٣٨، ٣٩، ٤٠].حضرت عبد اللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی ہوا پر رکھی جاتی اور اس کے ساتھ جن جنات اور انسانوں کو آپ چاہتے ان کی کرسیاں رکھی جاتیں، آپ کو پانی کی ضرورت ہوئی لیکن لوگوں کو اس کا علم نہ تھا، چناچہ آپ نے اس وقت پرندوں کو تلاش کیا تو ہد ہد کو نہ پایا، آپ نے اس کو دھمکی دی ، اور ا س کی سزا یہ تھی کہ اس کے پر اکھیڑ کر اس کو دھوپ میں رکھا جائے، جب وہ آیا تو پرندوں نے اس سے ملاقات کی اور کہا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے تمہارے لیے سزا کا اعلان کیا ہے، ہدہد نے کہا کیا انہوں نے کوئی استثناء کیا ہے ؟ وہ کہنے لگے جی ہاں ! یہ کہ آپ کوئی عذر بیان کریں، اور اس کا عذر یہ تھا کہ وہ ملکۂ سبا کا قصہ دیکھ کر آیا تھا، چناچہ سلیمان علیہ السلام نے ان کو لکھا {إِنَّہُ مِن سُلَیْمَانَ وَإِنَّہُ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ، أَلاَّ تَعْلُوا عَلَیَّ وَأْتُونِی مُسْلِمِینَ } کہتے ہیں کہ بلقیس چلی ، جب وہ ایک فرسخ کی مسافت پر تھی تو سلیمان علیہ السلام نے فرمایا { أَیُّکُمْ یَأْتِینِی بِعَرْشِہَا قَبْلَ أَن یَأْتُونِی مُسْلِمِینَ ، قَالَ عِفْریتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِکَ وَإِنِّی عَلَیْہِ لَقَوِیٌّ أَمِینٌ} حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا میں اس سے زیادہ جلدی چاہتا ہوں، { قَالَ الَّذِی عِندَہُ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَابِ أَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ أَن یَرْتَدَّ إِلَیْکَ طَرْفُکَ }، کہتے ہیں کہ مجھے منصور نے مجاہد کے حوالے سے بیان کیا کہ وہ زمین کے نیچے ایک سرنگ میں داخل ہوئے اور اس کو لے آئے، حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اس کو تبدیل کردو۔ { قِیلَ لَہَا ادْخُلِی الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّۃً وَکَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْہَا } چناچہ دیکھا وہ بہت بال والی عورت تھیں، حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کو کیا چیز ختم کرے گی ؟ لوگوں نے کہا چونا چناچہ اس وقت چونے کا استعمال ہوا۔