مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في موسى ﵇ من الفضل باب: وہ فضائل جو موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نقل کیے گئے ہیں
٣٤٠٠٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير و (عن) (١) عبد اللَّه بن الحارث عن ابن عباس قال لما أتى موسى قومه فأمرهم بالزكاة فجمعهم قارون، فقال: هذا قد جاءكم بالصوم والصلاة وبأشياء تطيقونها، تحتملون أن تعطوه أموالكم؟ قالوا: ما نحتمل أن نعطيه أموالنا، فما ترى؟ قال: ⦗٥٠٤⦘ أرى أن نرسل إلى بغي بني إسرائيل فنأمرها أن ترميه على رؤوس (الأحبار) (٢) والناس بأنه أرادها على نفسها، ففعلوا، فرمت موسى ﵇ (٣) على رؤوس الناس فدعا اللَّه عليهم، فأوحى اللَّه (تعالى) (٤) إلى الأرض أن أطيعيه، فقال لها: موسى ﵇ (٥) خذيهم، فأخذتهم إلى (أعقابهم فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى، فقال: خذيهم فأخذتهم إلى ركبهم) (٦) قال: فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى قال: خذيهم فأخذتهم إلى حجزهم، فجعلوا يقولون: (يا موسى يا موسى) (٧) (فقال) (٨): خذيهم، فأخذتهم إلى أعناقهم فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى، قال: فأخذتهم فغيبتهم، فأوحى اللَّه (تعالى) (٩) إلى موسى ﵇ (١٠): يا موسى! سألك عبادي وتضرعوا إليك فأبيت أن تجيبهم، أما وعزتي لو (إياي دعوا) (١١) لأجبتهم (١٢).عبد اللہ بن حارث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو زکوٰۃ کا حکم فرمایا تو قارون نے ان کو جمع کیا اور کہا کہ یہ تمہارے پاس ایسے حکم لائے یعنی نماز، روزہ وغیرہ کا جس کی تم طاقت رکھتے ہو، تو کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو کہ ان کو اپنے اموال دو ؟ وہ کہنے لگے ہمیں اس کی طاقت نہیں ، تمہارا کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم بنو اسرائیل کی زانیہ کو پیغام بھیجیں اور اس کو حکم دیں کہ لوگوں کے سامنے ان پر تہمت لگائے کہ انہوں نے اس کی عزت پر حملہ کیا ہے، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اور اس عورت نے موسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کے سامنے تہمت لگائی آپ نے ان کے خلاف بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف وحی فرمائی کہ ان کی اطاعت کرو، چناچہ موسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا کہ ان کو پکڑ لے، اس نے ان کو گھٹنوں تک پکڑ لیا ، چناچہ وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! اے موسیٰ ! آپ نے پھر فرمایا کہ ان کو پکڑ لے ، چناچہ اس نے ان کو گھٹنوں تک پکڑلیا، وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! اے موسیٰ ! آپ نے پھر فرمایا کہ ان کو پکڑ لے ، چناچہ اس نے ان کو کمر تک پکڑ لیا، پھر وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! اے موسیٰ ! آپ نے فرمایا ان کو پکڑ لے، چناچہ اس نے ان کو گردن تک پکڑ لیا، وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! اے موسیٰ ! پھر زمین نے ان کو غائب کردیا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اے موسیٰ ! تم سے میرے بندوں نے سوال کیا اور تمہارے سامنے گریہ زاری کی، لیکن تم نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا، میری عزت کی قسم ! اگر وہ مجھے پکارتے تو میں ان کی دعا قبول کرلیتا۔