حدیث نمبر: 33975
٣٣٩٧٥ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا ثابت عن أنس أن أبا بكر كان رديف النبي ﷺ من مكة إلى المدينة، وكان أبو بكر يختلف إلى الشام، قال: وكان يعرف، وكان النبي ﷺ لا يعرف فكانوا يقولون: يا أبا بكر من هذا الغلام بين يديك، قال: هذا هاد يهدي السبيل، قال: فلما دنوا من المدينة (نزلوا) (١) الحرة (وبعثوا) (٢) إلى الأنصار فجاؤوا قال: فشهدته يوم دخل المدينة، فما رأيت يوما كان أحسن ولا أضوأ من يوم دخل علينا فيه، وشهدته يوم مات، فما رأيت يوما كان أقبح ولا أظلم من يوم مات فيه، -صلوات اللَّه ورحمته ورضوانه عليه (إلى يوم الدين) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نبی ﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ تک ردیف تھے، اور حضرت ابوبکر شام میں آتے جاتے تھے، اور معروف تھے، اور نبی ﷺ اس قدر معروف نہ تھے، چناچہ لوگ کہتے اے ا بو بکر ! تمہارے ساتھ یہ لڑکا کون ہے ؟ آپ فرماتے کہ یہ رہنما ہے جو مجھے راستہ بتلا رہا ہے ، جب وہ مدینہ کے قریب ہوئے تو حرّہ کے مقام پر ٹھہرے اور انہوں نے انصار کے پاس پیغام بھیجا تو وہ آگئے ، کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو اس دن دیکھا جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے، میں نے کوئی دن اس دن سے اچھا اور روشن نہیں پایا جس دن آپ ہمارے پاس آئے تھے، اور میں نے آپ کو اس دن دیکھا جس دن آپ فوت ہوئے، تو میں نے کوئی دن اس دن سے زیادہ برا اور تاریک نہیں پایا جس دن آپ فوت ہوئے، آپ پر اللہ کی رحمت اور رضا ہو۔

حواشی
(١) في [هـ]: (نزلا).
(٢) في [هـ]: (بعثا).
(٣) سقط من: [م].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33975
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٤٠٦٣)، وأخرج بعضه الدارمي (٨٨)، وابن ماجه (١٦٣١)، والترمذي (٣٦١٨)، وابن حبان (٦٦٣٤)، والحاكم ٣/ ٥٧، وعبد بن حميد (١٢٨٩)، وأبو يعلى (٣٢٩٦)، والبغوي (٣٨٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33975، ترقيم محمد عوامة 32472)