مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
٣٣٩٦٤ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة عن عاصم عن (زر) (١) بن حبيش عن عبد اللَّه بن مسعود أن قال: كنت غلامًا يافعًا أرعى (غنما) (٢) لعقبة بن أبي (معيط (٣)، فجاء النبي ﷺ وأبو بكر وقد فرا من المشركين فقالا: "يا غلام، هل عندك من لبن تسقينا"، قلت: إني (مؤتمن) (٤) ولست ساقيكما، فقال النبي ﷺ: ⦗٤٨٣⦘ "هل عندك من جذعة لم ينز عليها الفحل؟ "، قلت: نعم، فأتيتهما بها (فاعتقلها) (٥) النبي ﷺ ومسح الضرع ودعا (٦)، ثم أتاه أبو بكر بصخرة منقعرة (أو منقرة) (٧)، فاحتلب فيها فشرب وشرب أبو بكر ثم شربت، ثم قال للضرع: "أقلص" فقلص، قال: فأتيته بعد ذلك فقلت: علمني من هذا القول، (قال) (٨): "إنك غلام معلم" (٩).حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نوجوان لڑکا تھا اور عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چراتا تھا، نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر آئے جبکہ وہ دونوں مشرکین سے فرار ہوئے تھے، اور فرمایا اے لڑکے ! کیا تمہارے پاس ہمیں پلانے کے لیے کچھ دودھ ہے ؟ میں نے کہا کہ میں امین ہوں، اور آپ کو پلا نہیں سکتا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس کوئی چھ ماہ کی بکری ہے جس پر کوئی نر نہ کو دا ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں ! میں ان کے پاس لایا، نبی ﷺ نے اس کی ٹانگیں کھولیں اور تھنوں کو ہاتھ لگایا اور دعا فرمائی، پھر حضرت ابوبکر آپ کے پاس ایک کھدا ہوا پتھر لائے ، آپ نے اس میں دودھ دوہا، آپ نے دودھ پیا اور حضرت ابوبکر نے بھی پیا، پھر میں نے پیا، پھر آپ نے تھن سے فرمایا سکڑ جا، چناچہ وہ سکڑ گیا، اس کے بعد میں آپ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ان باتوں میں سے مجھے بھی سکھا دیجئے ، فرمایا کہ تم تعلیم یافتہ لڑکے ہو۔