حدیث نمبر: 33940
٣٣٩٤٠ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: لما خرج النبي ﷺ وأبو بكر إلى المدينة تبعهما سراقة بن مالك، فلما رآهما قال: هذان فر قريش، لو رددت على قريش فرها، قال: فطف فرسه عليهما، قال: (فساخت) (١) الفرس، قال: فادع اللَّه أن يخرجها ولا أقربكما، قال: فخرجت (فعاد) (٢) حتى فعل ذلك مرتين أو ثلاثًا قال: ثم قال: هل لك (إلى) (٣) الزاد والحملان، قالا: "لا نريد، ولا حاجة لنا في ذلك أغن عنا نفسك"، قال: كفيتكما (٤)
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمیر بن اسحاق فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر مدینہ کی طرف نکلے تو سراقہ بن مالک نے ان کا تعاقب کیا، جب اس نے ان دونوں کو دیکھا تو کہا کہ یہ قریش کے مفرور ہیں، میں قریش کو ان کے مفرورین پہنچاتا ہوں، چناچہ اس نے اپنے گھوڑے کو ان پر کو دوایا تو اس کے گھوڑے کے پاؤں دھنس گئے، وہ کہنے لگا کہ اللہ سے دعا کیجیے کہ ان کو نکال دے، میں آپ کے قریب نہیں آؤں گا، چناچہ وہ نکل گئے ، پھر اس نے ایسا ہی کیا، اور دو یا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، کہنے لگا ھلاک و برباد ہو، پھر کہنے لگا کیا آپ کو توشہ اور سواری کی ضرورت ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم نہیں چاہتے ، اور ہمیں اس کی ضرورت نہیں، ہمیں اپنے آپ سے کافی ہوجائیں، اس نے کہا کہ میں تمہیں کافی ہوں۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (فتناخت).
(٢) في [أ، هـ]: (فعادت).
(٣) في [هـ]: (إلا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33940
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمير بن إسحاق ليس من الصحابة، وأخرجه ابن سعد ١/ ٢٣٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33940، ترقيم محمد عوامة 32437)