حدیث نمبر: 3394
٣٣٩٤ - حدثنا عبدة عن محمد بن (عمرو) (١) عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب (٢) قال: كان عمر إذا هبط (من) (٣) السوق مر على الشفاء ابنة (عبد اللَّه) (٤) فمر عليها يوما من رمضان (فقال) (٥): أين سليمان، (ابنها؟) (٦) قالت: نائم، قال: وما شهد صلاة الصبح؟ قالت: لا قام بالناس الليلة، ثم جاء فضرب برأسه، فقال عمر: شهود صلاة الصبح أحب إليَّ من قيام ليلة حتى الصبح (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر جب بازار کی طرف جاتے آتے تو شفاء بنت عبد اللہ کے پاس سے گذرتے۔ ایک دن رمضان میں ان کے پاس سے گذرے تو ان سے پوچھا کہ سلیمان (ان کے بیٹے) کہاں ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ وہ سوئے ہوئے ہیں۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ کیا انہوں نے فجر کی نماز پڑھی ہے۔ ان کی والدہ نے بتایا کہ نہیں، وہ ساری رات لوگوں کے ساتھ عبادت کرتے رہے، پھر آ کر سو گئے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ صبح کی نماز کو جماعت سے پڑھنا میرے نزدیک پوری رات عبادت کرنے سے بہتر ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، د، هـ]: (عمر).
(٢) في [أ]: (خاطب).
(٣) في [جـ، ك]: (من)، وفي [أ، ب، هـ]: (عن).
(٤) في [ب، هـ]: (عبيد اللَّه).
(٥) في [هـ]: (قال).
(٦) في [أ، جـ]: (أنها).
(٧) منقطع؛ يحيي لا يروي عن عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3394
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3394، ترقيم محمد عوامة 3379)