حدیث نمبر: 33925
٣٣٩٢٥ - حدثنا محمد بن أبي عبيدة بن معن عن أبيه عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس بن مالك قال: خرج إلينا رسول اللَّه ﷺ ذات يوم وهو غضبان ونحن نرى أن معه جبريل، قال: فما رأيت يوما (كان) (١) أكثر باكيا متقنعا منه، (فقال) (٢): "سلوني، فواللَّه لا تسألوني عن شيء إلا أنبأتكم به"، قال: فقام إليه رجل فقال: يا رسول اللَّه أفي الجنة أنا أم في النار؟ قال: "لا، بل في النار"، قال: ⦗٤٧٠⦘ فقام إليه آخر فقال: يا رسول اللَّه من أبي؟ قال: "أبوك حذافة"، قال: فقام إليه آخر فقالا: (يا رسول اللَّه) (٣): أعلينا الحج في كل عام؟ قال: "لو قلتها لوجبت ولو وجبت ما قمتم بها، ولو لم تقوموا بها (لعذبتم) (٤) "، قال: فقام عمر بن الخطاب فقال: رضينا باللَّه ربا وبالإسلام دينا وبمحمد ﷺ (٥) رسولًا، يا رسول اللَّه كنا حديثي عهد بجاهلية، فلا تبد سوآتنا ولا تفضحنا لسرائرنا واعف عنا عفا اللَّه عنك، قال: فسري عنه ثم التفت نحو الحائط فقال: "لم أر كاليوم في الخير والشر رأيت الجنة والنار دون هذا الحائط" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں ہمارے پاس آئے، اور ہم سمجھتے تھے کہ آپ کے ساتھ جبرائیل ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ رونے والا کوئی دن نہیں پایا، آپ نے فرمایا کہ مجھ سے سوال کرو، بخدا تم مجھ سے جس چیز کا بھی سوال کرو گے میں تمہیں اس کی خبر دوں گا، کہتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں جنت میں ہوں یا دوزخ میں ، آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ دوزخ میں ، دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرا والد کون ہے ؟ فرمایا کہ تمہارا والد حذافہ ہے، ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم پر ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر میں یہ کہہ دوں تو واجب ہوجائے گا۔ اگر واجب ہوا تو تم اس کو ادا نہیں کرسکو گے، اور اگر تم اس کو ادا نہ کرو گے تو تمہیں عذاب دیا جائے گا۔ کہتے ہیں کہ اس پر حضرت عمر بن خطاب کھڑے ہوئے اور عرض کیا ” رَضِینَا بِاللہِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِینًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَسُولا “ یا رسول اللہ ! ہمارا جاہلیت کا زمانہ قریب ہے، آپ ہماری برائیاں ظاہر نہ فرمائیں، اور ہمیں ہمارے پوشیدہ کاموں کی وجہ سے رسوا نہ فرمائیے، اور ہمیں معاف فرمائیے ، اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا ہے، کہتے ہیں کہ اس کے بعد آپ کی یہ حالت ختم ہوگئی، پھر آپ دیوار کی طرف متوجہ ہوئے ، اور فرمایا کہ میں نے آج کی طرح خیر و شر میں کوئی چیز نہیں دیکھی، میں نے جنت اور دوزخ کو اس دیوار کے پاس پایا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [جـ، م]: (قال).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (لهلكتم).
(٥) في [أ]: زيادة (نبيًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33925
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، وأخرجه البخاري (٩٣)، ومسلم (٢٣٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33925، ترقيم محمد عوامة 32422)