حدیث نمبر: 33893
٣٣٨٩٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس قال: جاء جبريل إلى النبي ﷺ وهو جالس حزين قد ضربه بعض أهل مكة، قال: فقال: مالك؟ قال: "فعل بي هولاء وهولاء"، قال: أتحب أن أريك آية، قال: "نعم"، فنظر إلى شجرة من وراء الوادي فقال: ادع تلك الشجرة، فدعاها فجاءت تمشي حتى قامت بين يديه ثم قال لها: "ارجعي"، فرجعت حتى عادت إلى مكانها فقال النبي ﷺ (١): "حسبي، حسبي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

ابو سفیان روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرئیل نبی ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپ غمگین بیٹھے تھے، آپ کو بعض اہل مکہ نے مارا تھا، انہوں نے کہا آپ کو کیا ہوا ؟ آپ نے فرمایا کہ ان ان لوگوں نے میرے ساتھ برا سلوک کیا ہے، انہوں نے عرض کیا کیا آپ یہ بات پسند کرتے ہیں کہ میں آپ کو نشانی دکھاؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں۔ پس انہوں نے وادی کے پیچھے دیکھا اور کہا کہ اس درخت کو بلائیں، آپ نے اس کو بلایا تو وہ چلتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا، پھر کہا کہ واپس چلے جاؤ تو وہ واپس چلا گیا اور اپنی جگہ لوٹ گیا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے کافی ہے مجھے کافی ہے۔

حواشی
(١) في [م]: ﵇.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33893
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه أحمد (١٢١٣٣)، وابن ماجه (٤٠٢٨)، وأبو يعلى (٣٦٨٥)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ١٠٧، والضياء في المختارة ٦/ ٢١٥ (٢٢٢٧)، وابن عساكر ٤/ ٣٦٥، والبيهقي في الدلائل ٢/ ١٥٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33893، ترقيم محمد عوامة 32390)