مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
٣٣٨٩٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس قال: جاء جبريل إلى النبي ﷺ وهو جالس حزين قد ضربه بعض أهل مكة، قال: فقال: مالك؟ قال: "فعل بي هولاء وهولاء"، قال: أتحب أن أريك آية، قال: "نعم"، فنظر إلى شجرة من وراء الوادي فقال: ادع تلك الشجرة، فدعاها فجاءت تمشي حتى قامت بين يديه ثم قال لها: "ارجعي"، فرجعت حتى عادت إلى مكانها فقال النبي ﷺ (١): "حسبي، حسبي" (٢).ابو سفیان روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرئیل نبی ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپ غمگین بیٹھے تھے، آپ کو بعض اہل مکہ نے مارا تھا، انہوں نے کہا آپ کو کیا ہوا ؟ آپ نے فرمایا کہ ان ان لوگوں نے میرے ساتھ برا سلوک کیا ہے، انہوں نے عرض کیا کیا آپ یہ بات پسند کرتے ہیں کہ میں آپ کو نشانی دکھاؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں۔ پس انہوں نے وادی کے پیچھے دیکھا اور کہا کہ اس درخت کو بلائیں، آپ نے اس کو بلایا تو وہ چلتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا، پھر کہا کہ واپس چلے جاؤ تو وہ واپس چلا گیا اور اپنی جگہ لوٹ گیا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے کافی ہے مجھے کافی ہے۔