حدیث نمبر: 33861
٣٣٨٦١ - حدثنا هوذة قال: ثنا عوف عن (زرارة) (١) بن أوفى قال: قال ابن عباس: قال رسول اللَّه ﷺ: "لما كان ليلة أسري بي وأصبحت بمكة (فظعت) (٢) بأمري وعرفت أن الناس مكذبيَّ"، فقعد رسول اللَّه ﷺ معتزلًا حزينًا فمر به أبو جهل فجاء حتى جلس إليه فقال له كالمستهزئ: هل كان من شيء؟ قال: "نعم"، [قال: وما هو؟ قال: "إني أُسريَّ بي الليلة"، قال: إلى أين؟ قال: "إلى بيت المقدس"، قال: ثم أصبحت بين (أظهرنا؟) (٣) قال: "نعم"] (٤)، فلم (يره) (٥) أنه يكذبه مخافة أن (يجحد) (٦) الحديث إن دعا قومه إليه، قال: أتحدث قومك ما حدثتني إن دعوتهم إليك؟ قال: "نعم"، قال: هيا يا معشر بني كعب بن لؤي هلم، قال: (فتنفضت) (٧) المجالس، فجاؤوا (حتى) (٨) جلسوا إليهما، فقال له: حدث قومك ما حدثتني، قال رسول اللَّه ﷺ: "إني أسري بي الليلة"، قالوا: إلى أين؟ قال: "إلى بيت المقدس"، قالوا: ثم أصبحت بين ظهرانينا؟ قال: "نعم"، قال: فبين مصفق وبين واضع يده على رأسه متعجبا للكذب زعم، وقالوا (لي) (٩): أتستطيع أن تنعت لنا المسجد، قال: وفي القوم من قد سافر إلى ذلك البلد ورأى المسجد، قال رسول اللَّه ﷺ: "فذهبت أنعت لهم، فما زلت أنعت لهم وأنعت حتى التبس عليَّ بعض ⦗٤٣٧⦘ النعت، فجيء بالمسجد وأنا أنظر إليه حتى وضع دون دار عقيل أو دار عقال، فنعته وأنا أنظر إليه"، (فقال) (١٠) القوم: أما النعت -فواللَّه- قد أصاب (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب معراج کی رات ہوئی اور میں نے مکہ میں صبح کی تو میں اپنے معاملے میں حیران ہوگیا اور مجھے لگا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے غمزدہ بیٹھ گئے، چناچہ ابو جہل آپ کے پاس سے گزرا تو آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا، اور آپ سے مذاق کے انداز میں کہا کہ کیا کچھ ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں ! اس نے کہا کیا ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے آج رات معراج کروائی گئی، اس نے کہا کہاں کی ؟ فرمایا بیت المقدس کی، اس نے کہا کہ پھر صبح آپ ہمارے پاس پہنچ گئے ؟ فرمایا جی ہاں ! اس نے تکذیب ظاہر نہ کی اس خوف سے کہ اگر وہ اپنی قوم کو آپ کے پاس بلائے گا تو کہیں آپ انکار نہ کردیں، چناچہ اس نے کہا اے بنو کعب بن لؤیّ کی جماعت ! آؤ ، چناچہ مجلس چھٹ گئی اور وہ ان دونوں کے پاس آ کر بیٹھ گئے، اس نے آپ سے کہا کہ اپنی قوم کو بھی وہ بات بیان کیجئے جو آپ نے مجھے بیان کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات مجھے معراج کروائی گئی، انہوں نے کہا کہاں کی ؟ آپ نے فرمایا بیت المقدس کی ، وہ کہنے لگے پھر صبح کے وقت آپ ہمارے پاس پہنچ گئے ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں ! کہتے ہیں کہ بعض تالیاں پیٹنے لگے اور بعض نے تعجب سے اپنے سر پر ہاتھ رکھا، اور مجھے کہنے لگے کہ کیا آپ ہمیں مسجد کی صفت بیان کرسکتے ہیں ؟ اور لوگوں میں سے بعض نے اس شہر کا سفر کیا ہوا تھا اور مسجد کو دیکھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان کو صفت بیان کرنے لگا، یہاں تک کہ بعض صفات میں مجھے شک ہوگیا، چناچہ مسجد کو میرے سامنے لایا گیا جبکہ میں اس کو دیکھ رہا تھا، اور دار عقیل یا دار عقال کے سامنے رکھ دی گئی، میں اس کو دیکھ کر اس کی صفت بیان کرنے لگا، لوگ کہنے لگے کہ صفت تو بخدا بالکل درست ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (ذرارة).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (فصعب).
(٣) في [هـ]: (ظهرانينا).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [هـ]: (يرد).
(٦) في [هـ]: (يجحده).
(٧) في [أ، ب، جـ، م]: (فتنقضت).
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) زيادة (لي) من: [أ، ب، جـ، م].
(١٠) في [جـ]: (فقام).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33861
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٨١٩)، والنسائي في الكبرى (١١٢٨٥)، والطبراني (١١٧٨٢)، والبزار (٥٦/ كشف)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٣٦٣، والضياء في المختارة ١٠/ ٣٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33861، ترقيم محمد عوامة 32358)