مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في العشاء الآخرة تعجل أو تؤخر باب: عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 3380
٣٣٨٠ - حدثنا إسحاق بن منصور عن محمد بن مسلم عن عمرو بن دينار عن عطاء عن ابن عباس قال: أخر رسول اللَّه ﷺ صلاة العشاء ذات ليلة فخرج ورأسه يقطر فقال: "لولا أن أشق على أمتي (لجعلت) (١) وقت هذه الصلاة هذا الحين" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز کو مؤخر فرمایا، جب آپ تشریف لائے تو آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں اس نماز کے لئے اس وقت کو مقرر کر دیتا۔
حواشی
(١) في [أ]: (فجعلت).