حدیث نمبر: 33797
٣٣٧٩٧ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) قال: ثنا زكريا بن أبي زائدة قال: أخذت هذه الفرائض من فراس زعم (أنه) (٢) كتبها له الشعبي: ١. قضى زيد بن ثابت وابن مسعود أن الإخوة من الأب والأم شركاء الإخوة من الأم في بنيهم ذكرهم وأنثاهم، وقضى علي (٣) لبني الأم دون بني الأب والأم. ٢. وقضى علي وزيد أنه (لا ترث جدة) (٤) -أم أب- مع ابنها، وورثها عبد اللَّه مع ابنها السدس. ⦗٤٠٣⦘ ٣. امرأة تركت أمها وإخوتها كفارا ومملوكين: قضى علي وزيد لأمها الثلث ولعصبتها الثلثين، كانا لا يورثان كافرا ولا مملوكا من مسلم حر ولا يحجبان به، وكان ابن مسعود يحجب بهم ولا يورثهم فقضى للأم السدس [وللعصبة ما بقي. ٤. امرأة تركت زوجها وإخوتها لأمها ولها ابن مملوك: قضى علي وزيد لزوجها النصف ولإخوتها الثلث] (٥) وللعصبة ما بقي، وقضى عبد اللَّه للزوج الربع وما بقي فهو للعصبة. ٥. امرأة تركت أمها وإخوتها كفارا ومملوكين قضى علي وزيد لأمها الثلث و (للعصبة) (٦) ما بقي، وقضى عبد اللَّه لأمها السدس وللعصبة ما بقي. ٦. امرأة تركت زوجها وإخوتها لأمها ولا عصبة لها: قضى زيد للزوج النصف وللإخوة الثلث، وقضى علي وعبد اللَّه أن يرد ما بقي على الإخوة من الأم؛ لأنهما كانا لا يردان من فضول الفرائض على الزوج شيئًا، ويردانها على أدنى رحم (يعلم) (٧). ٧. امرأة تركت أمها قضوا جميعا للأم الثلث: وقضى علي وابن مسعود (برد) (٨) ما بقي على الأم. ٨. رجل ترك أخته لأبيه وأمه، (وأمه) (٩): قضوا جميعا لأخته لأبيه وأمه النصف ولأمه الثلث، وقضى علي وعبد اللَّه أن يرد ما بقي وهو سهم ⦗٤٠٤⦘ عليها على قدر ما (ورثا) (١٠)، فيكون للأخت ثلاثة أخماس ويكون للأم (خمسا) (١١) المال. ٩. رجل ترك أخته لأبيه وجدته وامرأته: قضوا جميعًا لأخته النصف ولامرأته الربع، ولجدته سهم، ورد (علي) (١٢) ما بقي على أخته وجدته على قسمة فريضتهم، وأما عبد اللَّه فرده على الأخت لأنه كان لا يرد على جدة إلا أن (لا) (١٣) يكون وارثًا غيرها. ١٠. امرأة تركت أمها وأختها لأمها: قضوا جميعًا لأمها الثلث ولأختها السدس، ورد عليٌّ ما بقي عليها على قسمة فريضتهم فيكون للأم الثلثان، وللأخت الثلث، وقضى عبد اللَّه أن ما بقي يرد على الأم لأنه كان لا يرد على إخوة مع أم لأم، فيصير للأم خمسة أسداس، وللأخت سدس. ١١. امرأة تركت أختها لأبيها وأمها، وأختها لأبيها: قضوا جميعا (لأختها) (١٤) لأبيها وأمها النصف، ولأختها لأبيها السدس، ورد (١٥) ما بقي عليهما على قسمة فريضتهم، فيكون للأخت من الأب والأم ثلاثة أرباع، وللأخت للأب (ربع) (١٦)، ورد عبد اللَّه ما بقي على الأخت من الأب والأم فيصير لها خمسة أسداس المال، ⦗٤٠٥⦘ وللأخت للأب (سدس) (١٧) (١٨) المال، كان لا يرد على أخت لأب مع أخت (لأب وأم) (١٩). ١٢. امرأة تركت إخوتها لأبيها وأمها: قضوا جميعا لأمها السدس (ولإخوتها الثلث) (٢٠)، ورد (٢١) ما بقي عليهم على قسمة فريضتهم، فيكون للأم الثلث وللإخوة الثلثان، وأما عبد اللَّه (فإنه رد) (٢٢) ما بقي على الأم، فيكون للأم الثلثان وللإخوة الثلث. ١٣. امرأة تركت ابنتها وابنة ابنها: قضوا جميعا لابنتها النصف، ولابنة ابنها السدس، ورد عليٌ ما بقي عليهما على قسمة فريضتهم، ورد عبد اللَّه ما بقي على الابنة خاصة. ١٤. امرأة (تركت) (٢٣) ابنتها وجدتها: قضوا جميعا للابنة النصف، وللجدة السدس، ورد عليٌ ما بقي عليهما على قسمة فريضتهم، ورد عبد اللَّه ما بقي على الابنة خاصة. ١٥. امرأة تركت ابنتها، وابنة ابنها، وأمها: قضوا جميعا أن لابنتها النصف، ولابنة ابنها السدس، ولأمها السدس، ورد (٢٤) ما بقي عليهم على قسمة فريضتهم، ⦗٤٠٦⦘ ورد عبد اللَّه ما بقي على الابنة والأم، وأما زيد بن ثابت فإنه جعل الفضل من ذلك كله في بيت المال، لا يرد على وارث شيئا، ولا يزيد أبدا على فرائض اللَّه شيئًا. ١٦. امرأة تركت إخوتها من أمها رجالا ونساء وهم عصبتها: يقتسمون الثلث (بينهم) (٢٥) بالسوية، والثلثان لذكورهم دون النساء (٢٦).
مولانا محمد اویس سرور

زکریا بن ابی زائدہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ فرائض فراس سے حاصل کیے ، اور وہ فرماتے ہیں کہ یہ ان کو شعبی نے لکھ کردیے ہیں : ١- حضرت زید بن ثابت اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ حقیقی بھائی ماں شریک بھائیوں کے ساتھ مذکر اور مؤنث اولاد کے مال میں شریک ہیں، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ماں شریک بھائیوں کے لیے مال ہے حقیقی بھائیوں کے لئے نہیں ہے۔ ٢- اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دادی اپنے بیٹے کے ہوتے ہوئے وارث نہیں ہوتی اور حضرت عبداللہ نے اس کو اس کے بیٹے کے ہوتے ہوئے مال کے چھٹے حصّے کا وارث بنایا۔ ٣- ایک عورت نے اپنی ماں اور بھائیوں کو کفر اور غلامی کی حالت میں چھوڑا، ا س کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کی ماں کے لئے تہائی مال اور عصبہ کے لئے دو تہائی مال ہے، اور دونوں حضرات کا فر اور غلام کو آزاد مسلمان سے وارث نہیں بناتے تھے، اور اس سے محروم بھی نہیں کرتے تھے، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہان کے ذریعے محروم تو کرتے، لیکن ان کو وارث نہیں بناتے تھے، انہوں نے ماں کے لئے چھٹے حصّے کا فیصلہ فرمایا اور عصبہ کے لئے بقیہ مال کا۔ ٤- ایک عورت نے اپنے شوہر اور ماں شریک بھائیوں کو چھوڑا اور اس کا ایک بیٹا غلام تھا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ نے اس کے شوہر کے لئے نصف بھائیوں کے لیے تہائی اور عصبہ کے لئے بقیہ کا فیصلہ فرمایا اور حضرت عبد اللہ نے شوہر کے لئے چوتھائی اور عصبہ کے لئے بقیہ مال کا فیصلہ فرمایا۔ ٥- ایک عورت نے اپنی ماں اور بھائیوں کو کفر اور غلامی کی حالت میں چھوڑا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ نے اس کی ماں کے لئے ایک تہائی اور عصبہ کے لئے بقیہ مال کا فیصلہ فرمایا، اور حضرت عبد اللہ نے اس کی ماں کے لئے مال کے چھٹے حصّے اور عصبہ کے لئے بقیہ مال کا فیصلہ فرمایا۔ ٦- ایک عورت نے اپنے شوہر اور ماں شریک بھائیوں کو چھوڑا اور اس کا کوئی عصبہ نہیں تھا، حضرت زید نے شوہر کے لئے نصف اور بھائیوں کے لئے ایک تہائی کا فیصلہ فرمایا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بقیہ مال دوبارہ ماں شریک بھائیوں پر لوٹا دیا جائے، کیونکہ وہ فرائض میں سے بچے ہوئے مال میں سے شوہر پر کچھ نہیں لوٹاتے تھے، اور اس کو قریبی رشتہ داروں پر لوٹاتے تھے جو معلوم ہو۔ ٧- ایک عورت نے اپنی ماں کو چھوڑا، تمام حضرات نے ماں کے لئے ایک تہائی مال کا فیصلہ فرمایا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود نے بقیہ مال کو ماں پر لوٹانے کا فیصلہ فرمایا۔ ٨- ایک آدمی نے اپنی حقیقی بہن اور ماں کو چھوڑا، تمام حضرات نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کی حقیقی بہن کے لئے نصف اور ماں کے لئے ایک تہائی مال ہے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بقیہ مال جو ایک حصّہ ہے ان دونوں پر ان کے حصّے کے مطابق لوٹا دیا جائے، اس طرح بہن کے لئے تین پانچویں حصّے ( ٥/٣) اور ماں کے لئے دو پانچویں حصّے (٥/٢) ہوں گے۔ ٩- ایک آدمی نے اپنی باپ شریک بہن اور دادی اور بیوی کو چھوڑا، ان سب حضرات نے بہن کے لئے نصف اور بیوی کے لئے ایک چوتھائی مال اور دادی کے لئے ایک حصّے کا فیصلہ فرمایا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بقیہ مال اس کی بہن اور دادی پر ان کے حصّے کے مطابق لوٹا دیا، اور حضرت عبد اللہ نے مال بہن پر لوٹا دیا کیونکہ وہ دادی پر مال لوٹانے کے قائل نہیں تھے، الّا یہ کہ اس کے علاوہ کوئی وارث نہ ہو۔ ١٠- ایک عورت نے اپنی ماں اور ماں شریک بہن کو چھوڑا ، سب نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کی ماں کے لیے ایک تہائی مال اور اس کی بہن کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہے ، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بقیہ مال کا دونوں پر ان کے حصّے کے مطابق لوٹانے کا فیصلہ فرمایا، پس ماں کے لئے دو تہائی مال اور بہن کے لئے ایک تہائی مال ہے، اور حضرت عبد اللہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بقیہ مال ماں پر لوٹایا جائے گا، کیونکہ وہ ماں کے ہوتے ہوئے ماں شریک بہن پر مال کو نہیں لوٹاتے تھے، اس طرح ماں کے لئے پانچ چھٹے حصّے اور بہن کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہوگا۔ ١١- ایک عورت نے اپنی ایک حقیقی بہن اور ایک باپ شریک بہن کو چھوڑا تو سب حضرات نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی حقیقی بہن کے لئے نصف مال اور باپ شریک بہن کے لئے مال کا چھٹا حصّہ اور بقیہ مال ان دونوں پر ان کے حصّے کے مطابق لوٹایا جائے گا، اس طرح حقیقی بہن کے لئے تین چوتھائی اور باپ شریک بہن کے لئے ایک چوتھائی ہوگا، اور حضرت عبد اللہ نے بقیہ مال کو حقیقی بہن پر لوٹایا، اس طرح اس کے لئے مال کے پانچ چھٹے حصّے ہوں گے، اور باپ شریک بہن کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہوگا، اور آپ حقیقی بہن کے ہوتے ہوئے باپ شریک بہن پر مال نہیں لوٹاتے تھے۔ ١٢- ایک عورت نے اپنی حقیقی بہن اور ماں کو چھوڑا، سب نے اس کی ماں کے لئے چھٹے حصّے اور بھائیوں کے لئے ایک تہائی کا فیصلہ فرمایا ، اور بقیہ مال ان پر ان کے حصّے کے مطابق لوٹا

حواشی
(١) في [جـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، ب]: (أنها).
(٣) في [أ، ب، جـ]: زائدة (أن)، وفي [م]: زائدة (أنه).
(٤) في [ب]: (لا يرث جده).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، هـ].
(٦) في [م]: (لعصبتها).
(٧) في [م]: (تعلم).
(٨) في [أ، ب، هـ]: (يرد).
(٩) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(١٠) في [هـ]: (بقي ورقا).
(١١) في [أ، ب]: (خمسي).
(١٢) سقط من: [أ، ب].
(١٣) سقط من: [أ، ب، س، هـ].
(١٤) في [جـ]: (لأمها لأمها).
(١٥) في [هـ]: زيادة (عليٌ).
(١٦) في [ب]: (الربع)، وفي [أ]: (الربغ).
(١٧) في [ب]: (السدس)، وفي [أ]: (السدش).
(١٨) في [ب]: زيادة (من).
(١٩) في [جـ، م]: تقديم وتأخير.
(٢٠) في [ب]: (ولإخوتها السدس).
(٢١) في [هـ]: زيادة (عليٌّ).
(٢٢) بياض في [س].
(٢٣) سقط من [جـ].
(٢٤) في [هـ]: زيادة (علي).
(٢٥) سقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33797
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33797، ترقيم محمد عوامة 32294)