مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في العشاء الآخرة تعجل أو تؤخر باب: عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
٣٣٧٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا (حريز) (١) قال: حدثنا (راشد) (٢) ابن سعد عن عاصم بن حميد (السكوني) (٣) وكان من أصحاب معاذ عن معاذ بن جبل قال: (رقبنا) (٤) رسول اللَّه ﷺ في صلاة العشاء حتى أبطأ، حتى قال القائل: قد صلى ولم يخرج، (والقائل يقول: لم يخرج) (٥)، فخرج علينا رسول اللَّه ﷺ، والقائل يقول: يا رسول اللَّه (ظننا) (٦) أنك صليت، ولم تخرج، فقال رسول اللَّه ⦗٢٢٧⦘ ﷺ: "أعتموا (بهذه) (٧) الصلاة فقد فضلتم بها على سائر الأمم، ولم تصلها أمة قبلكم" (٨).حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک روز عشاء کی نماز کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کا بہت انتظار کیا، لیکن آپ نے اتنی دیر کر دی کہ ایک آدمی کہنے لگا کہ آپ تشریف نہیں لائیں گے۔ اتنے میں آپ تشریف لائے تو ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہمارا خیال یہ تھا کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں اور اب تشریف نہیں لائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس نماز کو اندھیرے میں پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں ساری امتوں پر اس نماز کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلی امتیں یہ نماز نہیں پڑھتی تھیں۔