حدیث نمبر: 33786
٣٣٧٨٦ - حدثنا هشيم عن أدهم السدوسي عن أناس من قومه أن امرأة ماتت وهي مسلمة وتركت أما لها نصرانية، فأسلمت أمها قبل أن يقسم ميراث ابنتها، فأتوا عليًا فذكروا ذلك له فقال: لا ميراث لها، ثم قال: (كم) (١) تركت؟ فأخبروه فقال: (أنيلوها) (٢) (منه) (٣) بشيء (٤).
مولانا محمد اویس سرور

أدھم سدوسی اپنی قوم کے چند آدمیوں سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت مرگئی اور وہ مسلمان تھی اور اس نے اپنی نصرانیہ ماں چھوڑی، پھر اس کی ماں بیٹی کی میراث تقسیم ہونے سے پہلے اسلام لے آئی تو ورثاء حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ نے فرمایا اس کے لئے کوئی میراث نہیں، پھر آپ نے فرمایا اس نے کتنا مال چھوڑا ہے ؟ انہوں نے بتایا تو آپ نے فرمایا کہ اس کو اس میں سے کچھ دے دو ۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (لم).
(٢) في [أ، ب، م]: (ابتلوها).
(٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٤) مجهول؛ لجهالة الرجال السدوسيين.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33786
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33786، ترقيم محمد عوامة 32284)