مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في العشاء الآخرة تعجل أو تؤخر باب: عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 3377
٣٣٧٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور عن الحكم عن نافع عن ابن عمر قال: انتظرنا ليلة رسول اللَّه ﷺ لصلاة العشاء الآخرة حتى كان ثلث الليل ⦗٢٢٦⦘ أو بعد، ثم خرج إلينا فلا أدري (أشغله شيء) (١) أو حاجة كانت له في أهله فقال: ما أعلم أهل دين ينتظرون (هذه) (٢) الصلاة غيركم، ولولا أن أشق على أمتي لصليت بهم هذه (الصلاة) (٣) هذه الساعة (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم نے عشاء کی نماز کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کیا۔ جب تہائی رات یا اس سے کچھ زیادہ وقت گذر گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، میں نہیں جانتا کہ آپ کو کسی کام نے روکا تھا یا آپ کو گھر والوں میں کوئی حاجت تھی۔ آپ نے فرمایا ” میں تمہارے علاوہ کسی ایسے دین کے پیروکاروں کو نہیں جانتا جو اس نماز کا انتظار کرتے ہوں۔ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں یہ نماز انہیں اس وقت میں پڑھنے کا حکم دیتا۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، ك]: (أشيء شغله).
(٢) سقط من: [ك].
(٣) في [أ]: (الصلواة).