مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في (الذي) يموت ولا يدع عصبة ولا وارثا، من يرثه؟ باب: اس آدمی کا بیان جو مر جائے اور کوئی عصبہ یا وارث چھوڑ کر نہ جائے، اس کا وارث کون ہو گا؟
حدیث نمبر: 33753
٣٣٧٥٣ - حدثنا عبد السلام عن إسحاق بن عبد اللَّه بن أبي فروة عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن عمرو بن العاص كتب إلى عمر في (الراهب) (١) يموت ليس له وارث، فكتب إليه أن (أعط) (٢) ميراثه الذين كانوا يؤدون جزيته (٣).مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص نے حضرت عمر کو ایک راہب کے بارے میں لکھا جس کا کوئی وارث نہیں تھا، آپ نے فرمایا کہ اس کی میراث ان لوگوں کو دے دو جو اس کا جزیہ ادا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (الواهب).
(٢) في [ب، هـ]: (أعطه).