مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في الرجل يموت ولا يعرف له وارث باب: اس آمی کا بیان جو مر جائے اور اس کا کوئی وارث معلوم نہ ہو
حدیث نمبر: 33752
٣٣٧٥٢ - حدثنا يزيد (١) قال: ثنا محمد بن إسحاق عن يعقوب بن عتبة عن سليمان بن يسار قال: توفي رجل من الحبشة فأتي رسول اللَّه ﷺ بميراثه قال: "انظروا هل (له) (٢) وارث؟ " فلم يجدوا له وارثًا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "انظروا (من هاهنا) (٣) من مسلمي الحبشة فادفعوا إليهم ميراثه" (٤).مولانا محمد اویس سرور
سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حبشہ کا ایک آدمی فوت ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی میراث لائی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو کیا اس کا کوئی وارث ہے ؟ لوگوں کو اس کا کوئی وارث نہیں ملا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو یہاں حبشہ کے مسلمانوں میں سے کون ہے ؟ اس کو اس کی میراث دے دو ۔
حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: زيادة (بن هارون عن حماد بن سلمة).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب]: (هل هاهنا).