مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في الرجل يموت ولا يعرف له وارث باب: اس آمی کا بیان جو مر جائے اور اس کا کوئی وارث معلوم نہ ہو
٣٣٧٥٠ - حدثنا عباد بن العوام عن أبي بكر بن أحمر عن عبد اللَّه بن بريدة عن أبيه قال: كنت عند رسول اللَّه ﷺ (فجاءه) (١) رجل فقال: يا رسول اللَّه، إن عندي ميراث رجل من الأزد، وإني لم أجد أزديا أدفعه إليه، قال: " (فانطلق) (٢) فالتمس أزديا عامًا أو حولًا فادفعه إليه"، قال: فانطلق ثم أتاه في (العام) (٣) (السابع) (٤) فقال: يا رسول اللَّه ما وجدت أزديا أدفعه إليه، قال: "انطلق إلى أول خزاعي فادفعه إليه"، قال: فلما (قفى) (٥) قال: "علي به"، قال: "فاذهب فادفعه إلى أكبر خزاعة" (٦).حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرے پاس قبیلہ ازد کے ایک شخص کی میراث ہے اور مجھے کوئی ازدی نہیں ملا جس کو میں دے دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور کسی ازدی کو ایک سال تک تلاش کرو اور اس کو دے دو ، چناچہ وہ ساتویں سال آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا جس کو دے دوں، فرمایا کہ پھر سب سے پہلے خزاعی کے پاس جاؤ جو تمہیں ملے اس کو دے دو ، کہتے ہیں کہ جب وہ شخص جانے کے لئے مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو میرے پاس لاؤ، اور فرمایا کہ اس کو قبیلہ خزاعہ کے سب سے بڑے کو دے دو ۔