مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في الرجل يسلم على يدي رجل ثم يموت: من قال: يرثه؟ باب: اس آدمی کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر اسلام لائے، پھر مر جائے، کون حضرات ہیں جو فرماتے ہیں کہ وہ اس کا وارث ہو گا
حدیث نمبر: 33736
٣٣٧٣٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن قيس بن مسلم عن محمد بن المنتشر عن مسروق قال: كان فينا رجل نازل أقبل من الديلم، فمات وترك ثلاثمائة درهم، فأتيت ابن مسعود فسألته فقال: هل له من رحم؟ أو هل لأحد منكم (عليه) (١) عقد ولاء؟ قلنا: لا، قال: فها هنا (ورثة) (٢) كثير -يعني بيت المال (٣).مولانا محمد اویس سرور
مسروق فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ہمارے پاس دیلم سے آکر ٹھہرا ہوا تھا ، وہ مرگیا اور اس نے تین سو درہم چھوڑے میں حضرت ابن مسعود کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا اس کا کوئی رشتہ دار ہے ؟ کیا تم میں سے اس کے ساتھ کسی کی موالاۃ ہے ؟ ہم نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا کہ پھر یہاں بہت سے ورثہ ہیں، یعنی بیت المال میں۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، م].
(٢) في [أ، ب، هـ]: (ورثه).