مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في العشاء الآخرة تعجل أو تؤخر باب: عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 3372
٣٣٧٢ - حدثنا وكيع عن هشام (بن) (١) عروة عن أبيه: (أن) (٢) عمر كتب إلى أبي موسى: أن صل العشاء إلى ثلث الليل، فإن أخرت فإلى الشطر، ولا تكن من الغافلين (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا کہ عشاء کی نماز کو تہائی رات تک ادا کر لو یا زیادہ دیر کرنی ہو تو آدھی رات تک ادا کر لو اور غافلین میں سے مت ہو جانا۔
حواشی
(١) في [أ]: (عن).
(٢) كذا في [جـ، ك]، وفي بقية النسخ: (عن).