مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في العشاء الآخرة تعجل أو تؤخر باب: عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا یا جلدی پڑھا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 3371
٣٣٧١ - حدثنا ابن مبارك عن معمر عن عبد اللَّه بن عثمان عن (ابن) (١) (لبيبة) (٢) قال: قال (لي) (٣) أبو هريرة: (صل) (٤) العشاء إذا ذهب الشفق، وأدلام الليل ما بينك وبين ثلث الليل، وما عجلت بعد ذهاب بياض الأفق فهو أفضل (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن لبیبہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے مجھ سے فرمایا کہ عشاء کی نماز اس وقت پڑھو جب شفق غائب ہو جائے اور آدھی رات سے پہلے رات کی تاریکی زیادہ ہو جائے۔ افق کے سفید ہونے کے بعد تم جتنی جلدی پڑھ لو اتنا ہی افضل ہے۔
حواشی
(١) في [أ، جـ] زيادة: (أبي).
(٢) في [أ، ك]: (لبيبة)، وفي [ب، د، هـ]: (لبينة).
(٣) زيادة في [جـ، ك]: (لي).
(٤) كذا في [أ، جـ، ك]، وفي [ب، د، هـ]: (صلوا).
(٥) مجهول؛ ابن لبيبة مجهول.