مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
الرجلان يقعان علي المرأة في طهر واحد ويدعيان جميعا ولدا من يرثه؟ باب: ان دو آدمیوں کا بیان جو کسی عورت کے ساتھ ایک طہر میں جماع کریں اور پھردونوں اولاد کا دعوٰی کریں، کہ اس بچے کاوارث ان میں سے کون ہو گا؟
٣٣٦٠٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الشعبي عن عبد اللَّه بن (١) الحضرمي عن زيد بن أرقم قال: بينا نحن عند رسول اللَّه ﷺ إذ أتاه رجل من اليمن وعلي بها، فجعل (يحدث) (٢) النبي ﷺ ويخبره، قال: يا رسول اللَّه ﷺ، أتى عليًا ثلاثة نفر فاختصموا في ولد، كلهم (٣) زعم أنه ابنه وقعوا على امرأة في طهر واحد، فقال علي: إنكم شركاء متشاكسون، وإني مقرع بينكم، فمن قرع فله الولد، وعليه ثلثا الدية (لصاحبيه) (٤)، قال: فأقرع بينهم، فقرع أحدهم، فدفع إليه الولد، وجعل عليه ثلثي الدية، فضحك رسول اللَّه ﷺ حتى بدت نواجذه أو أضراسه (٥).زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی یمن سے آیا جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن میں ہی تھے، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باتیں اور خبریں بتانے لگا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! علی رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدمی آئے اور وہ ایک بچے کے بارے میں جھگڑنے لگے، ہر ایک یہ گمان کرتا تھا کہ وہ اس کا بیٹا ہے، جبکہ انہوں نے ایک ہی طہر میں ایک عورت کے ساتھ جماع کیا تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم برابر شریک ہو، اور میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کرتا ہوں، جس کے نام قرعہ نکل آئے بچہ اسی کے لئے ہوگا، اور اس پر دوسرے دو ساتھیوں کے لئے دیت کا دو تہائی دینا لازم ہوگا، کہتے ہیں کہ پھر آپ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا، اور جس کے نام قرعہ نکلا اس کو بچہ دے دیا، اور اس پر دو تہائی دیت لازم کردی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس اٹھے یہاں تک کہ آپ کی آخری داڑھیں یا آپ کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔