مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في الرجل يعتق الرجل سائبه لمن يكون ميراثه؟ باب: اس آدمی کا بیان جو اپنے غلام کو آزاد چھوڑ دے، یہ کہہ کر کہ کسی کو تم پر ولایت نہیں، کہ اس کی میراث کس کو ملے گی؟
حدیث نمبر: 33570
٣٣٥٧٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا بسطام بن مسلم عن عطاء بن أبي رباح أن طارق بن (المرقع) (١) أعتق غلامًا له للَّه، فمات وترك مالًا، فعرض على مولاه طارق فقال: شيء جعلته للَّه فلست بعائد فيه، فكتب في ذلك إلى عمر، فكتب عمر أن اعرضوا المال على طارق، فإن قبله (٢)، وإلا فاشتروا به رقيقًا فأعتقوهم، قال: فبلغ (٣) خمسة عشر رأسًا (٤).مولانا محمد اویس سرور
عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ ، طارق بن مرقع نے اپنا غلام اللہ کے لئے آزاد کیا چناچہ وہ مرگیا اور اس نے اپنا مال چھوڑا ، اس کو اس کے آقا طارق پر پیش کیا گیا تو وہ کہنے لگے یہ ایسی چیز ہے جو میں نے اللہ کے لئے چھوڑ دی ہے اس لئے میں اس کو دوبارہ لینے والا نہیں، چناچہ اس بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا گیا۔ آپ نے فرمایا، کہ مال طارق کو دے دو ، اگر وہ لے لے تو ٹھیک ورنہ اس سے غلام خرید کر آزاد کردو، راوی فرماتے ہیں، کہ وہ مال پندرہ غلاموں کی قیمت تک جا پہنچا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (الربيع).
(٢) في [هـ]: زيادة (فذاك).
(٣) زيادة في [أ، ب]: (ذلك).
(٤) منقطع، عطاء بن أبي رباح لم يدرك عمر.