مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
الغرقى من كان يورث بعضهم من بعض باب: غرق ہو جانے والوں کا بیان، اور ان لوگوں کا بیان جو ڈوبنے والوں کو ایک دوسرے کا وارث بناتے ہیں
حدیث نمبر: 33468
٣٣٤٦٨ - حدثنا هشيم عن مغيرة قال: أخبرني (قطن) (١) بن عبد اللَّه الضبي أن امرأة ركبت (٢) الفرات ومعها ابن لها فغرقا جميعًا، فلم يدر أيهما مات قبل صاحبه فأتينا شريحا فأخبرناه بذلك، فقال: ورثوا كل واحد منهما من صاحبه ولا تردوا على واحد منهما (مما) (٣) ورث من صاحبه شيئًا.مولانا محمد اویس سرور
قطن بن عبد اللہ ضبی فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے فرات کا سفر کیا جبکہ اس کے ساتھ اس کا ایک بیٹا بھی تھا، چناچہ وہ دونوں غرق ہوگئے، اور یہ پتہ نہیں چلا کہ ان دونوں میں سے کون دوسرے سے پہلے مرا، ہم حضرت شریح کے پاس آئے اور ان کو اس کی خبر دی، آپ نے فرمایا : ان دونوں کو ایک دوسرے کا وارث بنادو اور ان میں سے کسی پر دوسری کی طرف سے وہ مال نہ لوٹاؤ جس کا وہ وارث ہوا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (قطر).
(٢) في [هـ]: زيادة (في).
(٣) في [أ، ب]: (فما).