حدیث نمبر: 3337
٣٣٣٧ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه قال: قدم (رجل) (١) على المغيرة بن شعبة وهو على الكوفة فرآه يؤخر العصر فقال له: لم تؤخر العصر؛ فقد كنت أصليها مع رسول اللَّه ﷺ، ثم أرجع إلى أهلي (إلى) (٢) بني عمرو بن عوف والشمس مرتفعة (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس کوفہ میں آیا اور اس نے دیکھا کہ وہ عصر کی نماز تاخیر سے پڑھتے ہیں۔ اس آدمی نے پوچھا کہ آپ عصر کی نماز تاخیر سے کیوں پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ کر بنو عمرو بن عوف میں اپنے گھر آ جاتا تھا لیکن ابھی سورج بلند ہوتا تھا۔

حواشی
(١) في [د]: (الرجل).
(٢) سقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3337
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحارث (١٠٧/ بغية)، والخطيب في الأسماء المبهمة ص ٢٣٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3337، ترقيم محمد عوامة 3323)