مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
إذا ترك إخوة وجدا واختلافهم فيه باب: جب کوئی آدمی بھائیوں اور دادا کو چھوڑ جائے تو کیاحکم ہے؟ اس بارے میں علماء کے اختلاف کا بیان
٣٣٣٢٧ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم قال: كان عبد اللَّه وزيد يجعلان للجد الثلث (١) وللإخوة الثلثين، وفي رجل ترك أربعة إخوة لأبيه وأمه وأختيه لأبيه وأمه وجده، قال: كان علي يجعلها أسهما أسداسًا (٢) السدس (له) (٣)، لم يكن علي يجعل للجد أقل من السدس مع الإخوة، وما بقي فللذكر مثل حظ الأنثيين، وكان عبد اللَّه وزيد يعطيان الجد الثلث والإخوة الثلثين للذكر مثل حظ الأنثيين، وقال في خمسة إخوة وجد، قال: فللجد في قول علي السدس، وللإخوة خمسة أسداس، وكان عبد اللَّه وزيد يعطيان الجد الثلث والإخوة الثلثين (٤).ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ دادا کے لئے ایک تہائی مال مقرر فرمایا کرتے تھے اور بھائیوں کے لئے دو تہائی مال، اور اس مسئلے میں کہ جب آدمی اپنے حقیقی بھائیوں اور دو حقیقی بہنوں اور دادا کو چھوڑ کر مرے، حضرت علی رضی اللہ عنہ مال کو چھ حصّوں پر تقسیم کردیا کرتے تھے، اور دادا کو چھٹا حصّہ دلایا کرتے تھے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھائیوں کی موجودگی میں دادا کا حصّہ چھٹے حصّے سے کم نہیں کیا کرتے تھے، اور باقی مال اس ضابطے پر تقسیم ہوتا کہ مرد کو عورت سے دوگنا حصّہ دیا جاتا، اور حضرت عبد اللہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ دادا کو ایک تہائی مال دیا کرتے تھے، اور بھائیوں کو دو تہائی مال، اس ضابطے پر کہ مرد کو عورت سے دوگنا حصّہ دیا جائے، اور ابراہیم نے پانچ بھائیوں اور ایک دادا کے مسئلے کے بارے میں فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول میں دادا کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہے اور بھائیوں کے لئے بقیہ پانچ حصّے ، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ دادا کو ایک تہائی مال اور بھائیوں کو دو تہائی مال دلایا کرتے تھے۔