مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
إذا ترك إخوة وجدا واختلافهم فيه باب: جب کوئی آدمی بھائیوں اور دادا کو چھوڑ جائے تو کیاحکم ہے؟ اس بارے میں علماء کے اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 33326
٣٣٣٢٦ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أن زيدًا كان (١) يقاسم الجد مع الواحد والاثنين، فإذا كانوا ثلاثةكان له ثلث جميع المال، فإن كان معه فرائض نظر له، فإن كان (الثلث) (٢) خيرا له (أعطاه) (٣)، وإن كانت المقاسمة خيرا له قاسم، ولا ينتقص من سدس جميع المال (٤).مولانا محمد اویس سرور
حسن روایت کرتے ہیں کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ دادا ایک دو بھائیوں کے ساتھ مال کی تقسیم میں شریک ہوگا، اور جب بھائی تین ہوں تو اس کو پورے مال کا ایک تہائی حصّہ دیا جائے گا، اور اگر اس کے کئی حصّے ہوں تو دیکھا جائے گا کہ اگر ایک تہائی مال اس کے لئے بہتر ہوگا تو اس کو دے دیا جائے گا اور اگر بھائیوں کے ساتھ شرکت بہتر ہوگی تو شریک کردیا جائے گا، اور اس کا حصّہ مال کے چھٹے حصّے سے کم نہیں کیا جائے گا۔
حواشی
(١) زيادة في [جـ، م]: (يقول).
(٢) في [جـ، م]: (ثلث).
(٣) في [أ، ب، جـ، م]: (أعطيه).
(٤) منقطع، الحسن لم يسمع من زيد.