مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
إذا ترك إخوة وجدا واختلافهم فيه باب: جب کوئی آدمی بھائیوں اور دادا کو چھوڑ جائے تو کیاحکم ہے؟ اس بارے میں علماء کے اختلاف کا بیان
٣٣٣١٨ - حدثنا ابن علية عن أبي العلاء عن إبراهيم عن علقمة قال: كان عبد اللَّه (يشرك) (١) الجد مع الإخوة، فإذا كثروا (وفاه) (٢) الثلث، فلما توفي علقمة ⦗٢٩٦⦘ أتيت عبيدة فحدثني أن ابن مسعود كان (يشرك) (٣) الجد مع الإخوة، فإذا كثروا وفاه السدس، فرجعت من عنده وأنا (خاثر) (٤) فمررت بعبيد بن (نضيلة) (٥) فقال: ما لي أراك خاثرا؟ قال: قلت: كيف لا أكون (خاثرا؟) (٦) فحدثته، فقال: صدقاك كلاهما، قلت: للَّه أبوك، وكيف صدقاني كلاهما؟ قال: كان رأي عبد اللَّه وقسمته أن (يشركه) (٧) مع الإخوة، فإذا كثروا وفاه السدس، ثم وفد إلى عمر فوجده يشركه مع الإخوة فإذا كثروا وفاه الثلث، فترك رأيه وتابع عمر (٨).حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک بنایا کرتے تھے ، لیکن جب بھائی تعداد میں زیادہ ہوتے تو آپ اس کو ایک تہائی مال دلاتے، ابراہیم راوی فرماتے ہیں کہ جب علقمہ کی وفات ہوئی تو میں حضرت عُبِیدہ کے پاس آیا ، انہوں نے مجھ سے یہ بیان فرمایا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک بنایا کرتے تھے، اور جب بھائی زیادہ ہوتے تو اس کو مال کا حصّہ دلاتے، فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میں ان کے پاس سے اس حال میں لوٹا کہ میری طبیعت بوجھل تھی۔ پھر میں حضرت عبید بن نضیلہ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ آپ کی طبیعت میں سستی کیسی ہے ؟ میں نے کہا : کیوں نہ ہو جبکہ اس طرح واقعہ پیش آیا ہے ، پھر میں نے ان سے پوری بات بیان کی ، انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں نے تمہیں سچ بتلایا، میں نے کہا : آپ کی کیا بات ہے ! دونوں نے کیسے سچ کہا ؟ فرمانے لگے : حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک کردیا جائے، اور جب وہ بڑھ جائیں تو اس کو مال کا چھٹا حصّہ دلا دیا جائے، پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہیں دیکھا کہ وہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک کرتے ہیں اور جب بھائی زیاد ہ ہوجائیں تو دادا کو ایک تہائی مال دلاتے ہیں، تو آپ نے اپنی رائے چھوڑ دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے پر عمل کرنے لگے۔