مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
إذا ترك إخوة وجدا واختلافهم فيه باب: جب کوئی آدمی بھائیوں اور دادا کو چھوڑ جائے تو کیاحکم ہے؟ اس بارے میں علماء کے اختلاف کا بیان
٣٣٣١٧ - (١) حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبيد بن (نضيلة) (٢) قال: كان عمر وعبد اللَّه (يقاسمان) (٣) بالجد مع الإخوة ما بينه وبين أن يكون السدس خيرا له من مقاسمتهم، ثم إن عمر كتب إلى عبد اللَّه: ما أرى إلا أنا قد أجحفنا بالجد، فإذا جاءك كتابي هذا فقاسم به مع الإخوة ما بينه وبين أن يكون الثلث خيرا له من مقاسمتهم، فأخذ به عبد اللَّه (٤).عُبید بن نضیلہ فرماتے ہیں کہ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بھائیوں کے ہوتے ہوئے دادا کے حصّے کو تقسیم کرتے تھے، اور اس کو وہ مال دلاتے جو چھٹے حصّے اور بھائیوں کے حصّے میں شراکت میں سے اس کے لئے زیادہ بہتر ہوتا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ کو لکھا کہ میرا خیال ہے کہ ہم نے دادا کو مفلس کردیا ہے، پس جب آپ کے پاس میرا یہ خط پہنچے تو آپ اس کو بھائیوں کے ساتھ تقسیم کا حصہ دار بنا دیجئے، اس طرح کہ ایک تہائی مال اور تقسیم میں ان کے ساتھ شرکت میں سے جو اس کے لئے زیادہ بہتر ہو وہ اس کو دلائیے، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کو قبول فرما لیا۔