حدیث نمبر: 33314
٣٣٣١٤ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أن عمر قال: من (يعلم) (١) قضية رسول اللَّه ﷺ في الجد؟ فقال معقل بن يسار المزني: فينا قضى به رسول اللَّه ﷺ ("قال: ما ذاك؟ ") (٢) قال: السدس، قال: "مع من؟ " قال: لا أدري، قال: لا دريت فما (تغني) (٣) إذن (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کون جانتا ہے کہ دادا کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا ؟ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ ہمارے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا تھا، آپ نے پوچھا، کیا فیصلہ فرمایا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مال کے چھٹے حصّے کا، آپ نے پوچھا : کن رشتہ داروں کی موجودگی میں ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں، آپ نے فرمایا : تجھے کچھ معلوم نہ ہو ، بھلا پھر اس بات کے معلوم ہونے کا کیا فائدہ ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (تعلم).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [أ، ب]: (معنا)، وفي [م، هـ]: (تعنى).
(٤) منقطع؛ الحسن لم يدرك عمر، أخرجه أحمد (٢٠٣١٠)، وأبو داود (٢٨٩٧)، وابن ماجه (٢٧٢٣)، والنسائي في الكبرى (٦٣٣٤)، وسعيد بن منصور (٣٨)، والطبراني ٢٠/ (٤٦٢)، وانظر: ما قبله.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33314
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33314، ترقيم محمد عوامة 31865)