مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في الرد واختلافهم فيه باب: ردّ کا بیان، اور اس بارے میں فقہاء کے اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 33251
٣٣٢٥١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن مسروق قال: أُتي عبد اللَّه في أم وأخوة لأم، فأعطى الأم السدس، والإخوة الثلث، ورد ما بقي على الأم، وقال: الأم عصبة من لا عصبة له، وكان ابن مسعود لا يرد على أخت لأب مع أخت لأب وأم، ولا على ابنة ابن مع ابنة (صلب) (١) (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ماں اور ماں شریک بھائیوں کے بارے میں مسئلہ لایا گیا تو آپ نے مال کا چھٹا حصّہ ماں کو دے دیا اور ایک تہائی مال بھائیوں کو دے دیا اور باقی مال ماں کو دے دیا۔ اور فرمایا ماں اس آدمی کی عصبہ ہے جس کا کوئی آدمی عصبہ نہ ہو، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ حقیقی بہن کے ہوتے ہوئے باپ شریک بہن پر مال لوٹانے کے قائل نہیں تھے اور نہ صلبی بیٹی کے ہوتے ہوئے پوتی پر مال لوٹایا کرتے تھے۔
حواشی
(١) سقطت من: [أ، ب].