حدیث نمبر: 33244
٣٣٢٤٤ - حدثنا حماد بن خالد عن معاوية بن صالح عن أبي الزاهرية -قال أبو بكر: أظنه عن جبير بن نفير- قال: كنت جالسا عند أبي الدرداء، وكان قاضيًا، فأتاه رجل فقال: إن ابن (أختي) (١) مات ولم يدع وارثًا، فكيف ترى في ماله؟ (قال) (٢): انطلق فاقبضه (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جبکہ وہ قاضی تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میرا بھائی فوت ہوگیا ہے اور اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا آپ اس کے مال کے بارے میں کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا کہ جاؤ اور اس کا مال لے لو۔

حواشی
(١) في [جـ، م]: (أخي)، وفي [أ، ط، هـ]: (أمي).
(٢) في [أ، ب]: (فقال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33244
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ معاوية بن صالح صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33244، ترقيم محمد عوامة 31808)