مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من قال: على كم (يصلي) (الظهر) قدما (ووقت) ذلك باب: ظہر کی نماز کتنی دیر تک پڑھ جا سکتی ہے؟ یعنی اس کا وقت کیا ہے؟
حدیث نمبر: 3322
٣٣٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن أبي مالك الأشجعي عن كثير بن مدرك عن الأسود بن يزيد قال: قال عبد اللَّه: إن أول وقت الظهر أن ⦗٢١٣⦘ تنظر إلى قدميك (فتقيس) (١) ثلاثة أقدام إلى خمسة أقدام، وإن أول الوقت الآخر خمسة أقدام إلى سبعة أقدام، أظنه قال: في الشتاء (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ ظہر کا اول وقت یہ ہے کہ تم اپنے قدموں کی طرف دیکھو، اگر تین سے پانچ قدموں کا اندازہ ہو تو یہ اول وقت ہے اور اس کا آخری وقت یہ ہے کہ تم اپنے پاؤں کو دیکھو اور پانچ سے سات قدموں کا اندازہ ہو۔ حضرت اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ بات سردیوں کے بارے میں فرمائی۔
حواشی
(١) في [أ]: (فتفيش).