مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
رجل مات وترك خاله وابنة أخيه أوابنة (أخته) باب: اس آدمی کا بیان جو مرتے ہوئے اپنا ماموں اور ایک بھتیجی یا بھانجی چھوڑ جائے
حدیث نمبر: 33212
٣٣٢١٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن رجل من أهل المدينة عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان قال: كان ثابت بن الدحداح رجلًا أتيا يعني طارئًا، وكان في بني أنيف أو في بني العجلان، فمات ولم يدع وارثا إلا ابن أخته أبا لبابة بن عبد المنذر، فأعطاه النبي ﷺ ميراثه (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت واسع ابن حبّان فرماتے ہیں کہ ثابت ابن دحداح رضی اللہ عنہایک اجنبی آدمی تھے وہ بنو انیف یا بنو عجلان کے علاقے میں رہتے تھے چناچہ وہ فوت ہوگئے اور اپنے بھانجے کے علاوہ کوئی وارث نہیں چھوڑا اور ان کا نام لبابہ بن عبد المنذر تھا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی میراث انہی کو دے دی۔