مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
رجل مات وترك خاله وابنة أخيه أوابنة (أخته) باب: اس آدمی کا بیان جو مرتے ہوئے اپنا ماموں اور ایک بھتیجی یا بھانجی چھوڑ جائے
حدیث نمبر: 33210
٣٣٢١٠ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان قال: هلك (ابن دحداحة) (١) وكان ذا رأي فيهم، فدعا رسول اللَّه ﷺ عاصم بن عدي فقال: "هل كان (له) (٢) فيكم (نسب) (٣) "، قال: لا، ⦗٢٧١⦘ قال: فأعطى رسول اللَّه ﷺ ميراثه ابن أخته أبا لبابة بن عبد المنذر (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت واسع بن حبّان فرماتے ہیں کہ حضرت ابن دحداحہ رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے جو کہ صحابہ کرام میں صاحب رائے آدمی تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور پوچھا کہ کیا ان کی تمہارے ساتھ کوئی قرابت داری تھی ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی میراث ان کے بھانجے ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کو دے دی۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س]: (أبو جراحة)، وفي [م]: (أبو) وكلمة سقطة، وفي [جـ]: (ابن جراحة)، وفي حاشية [جـ]: (ثابت بن دحداحة ويقال ثابت بن الدحداح أيضًا).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب]: (سبب).