مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
رجل مات وترك خاله وابنة أخيه أوابنة (أخته) باب: اس آدمی کا بیان جو مرتے ہوئے اپنا ماموں اور ایک بھتیجی یا بھانجی چھوڑ جائے
حدیث نمبر: 33209
٣٣٢٠٩ - حدثنا وكيع قال ثنا زكريا عن عامر قال: سئل مسروق عن رجل مات وليس له وارث إلا خاله (و) (١) ابنة (أخيه) (٢)، قال: للخال نصيب (أخته) (٣) ولابنة الأخ نصيب أبيها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جو اس حال میں مرا کہ اس کا سوائے ماموں اور بھتیجی کے کوئی وارث نہیں تھا۔ آپ نے فرمایا ماموں کے لیے اس کی بہن جتنا مال اور بھتیجی کے لیے اس کے باپ جتنا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (أو).
(٢) في [م]: (أخته).
(٣) في [ح، ط، هـ]: (أخيه).