مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في بني عم أحدهم الزوج باب: یہ باب ہے ان چچا زاد بھائیوں کے بارے میں جن میں سے ایک شوہر ہو
٣٣١٥٩ - حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة عن إسرائيل عن منصور عن إبراهيم في امرأة تركت ثلاثة بني عم أحدهم زوجها والآخر أخوها لأمها، فقال ⦗٢٥٩⦘ علي وزيد: للزوج النصف وللأخ من الأم السدس، وما بقي فهو بينهم سواء، وقال ابن مسعود: للزوج النصف، وما بقي فللأخ (من الأم) (١) (٢).ابراہیم سے روایت ہے کہ وہ عورت جس نے تین چچا زاد بھائیوں کو چھوڑا جن میں سے ایک اس کا شوہر تھا اور دوسرا اس کا ماں شریک بھائی تھا، اس کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نصف مال شوہر کے لئے اور چھٹا حصّہ ماں شریک بھائی کے لئے ہوگا، اور باقی ان کے درمیان برابر کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نصف مال شوہر کے لئے ہے اور باقی مال ماں شریک بھائی کے لئے ہے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کی رائے مطابق چھ کے عدد سے نکلے گا جن میں سے تین حصّے ( یعنی آدھا مال) شوہر کے لئے، اور ماں شریک بھائی کے لئے چھٹا حصّہ ہوگا، اور دو حصّے باقی بچیں گے جو ان دونوں کے درمیان تقسیم ہوں گے، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق یہ مسئلہ دو حصّوں سے نکلے گا جن میں سے نصف شوہر کے لئے اور باقی ماں شریک بھائی کے لئے ہوگا۔