مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يصلي الظهر إذا زالت الشمس ولا يبرد بها باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی ، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
حدیث نمبر: 3311
٣٣١١ - حدثنا حفص عن (١) أبي (العنبس) (٢) قال: سألت أبي قلت: صليت مع علي فأخبرني كيف كان يصلي (الظهر) (٣)؟ (قال: كان يصلي الظهر) (٤) إذا زالت الشمس (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العنبس کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، مجھے بتائیے کہ وہ ظہر کی نماز کیسے پڑھتے تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ وہ سورج کے زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز پڑھ لیتے تھے۔
حواشی
(١) في [د، هـ]: زيادة (ابن).
(٢) في [أ]: (العنسي)، وفي [د، هـ]: (العبسي).
(٣) في [جـ، ك]: سقطت (الظهر).
(٤) سقط من: [أ، ب]، وفي [د، هـ]: (قال: الظهر).