حدیث نمبر: 33050
٣٣٠٥٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن أبي حيان قال: حدثني أبي قال: حضر جار لشريح وله بنون، فقسم ماله بينهم لا يألو أن يعدل، ثم دعا (شريحًا) (١) فجاء فقال: (أبا أمية) (٢) إني قسمت مالي بين ولدي ولم آل وقد أشهدتك، فقال شريح: قسمة اللَّه أعدل من قسمتك، فارددهم إلى (سهام) (٣) اللَّه وفرائضه، وأشهدني وإلا فلا تشهدني (فإني) (٤) لا أشهد على جور.
مولانا محمد اویس سرور

ابو حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت شریح کا ایک پڑوسی جس کے ایک سے زائد بچے تھے ان کے پاس آیا ، اور اپنا مال ان بچوں کے درمیان برابری کا لحاظ کیے بغیر تقسیم کردیا، پھر اس نے حضرت شریح کو بلایا، آپ گئے تو اس نے کہا اے ابو امیہ ! میں نے اپنا مال اپنے بچوں کے درمیان تقسیم کردیا ہے اور میں نے برابری کی رعایت نہیں کی، اور اب میں آپ کو گواہ بناتا ہوں، حضرت شریح نے فرمایا : ” اللہ کی تقسیم تیری تقسیم سے زیادہ انصاف والی ہے، ا س تقسیم کو ختم کر کے اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے حصّوں کے مطابق تقسیم کرو اور پھر مجھے گواہ بناؤ، ورنہ مجھے گواہ مت بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بننا چاہتا۔ “

حواشی
(١) في [هـ]: (شريح).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (يا أميمة).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (قسمة).
(٤) سقط من: [أ، ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 33050
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33050، ترقيم محمد عوامة 31645)