مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الوصايا
في الرجل يفضل بعض ولده على بعض باب: اس آدمی کا بیان جو اپنے کچھ بچوں کو دوسروں پر ترجیح دے
حدیث نمبر: 33043
٣٣٠٤٣ - حدثنا علي بن مسهر عن أبي حيان عن الشعبي عن النعمان بن بشير قال: انطلق بي أبي إلى النبي ﷺ ليشهده على عطية أعطانيها، قال: "لك غيره؟ " قال: نعم، قال: " (كلهم) (١) (أعطيتهم) (٢) مثل (ما) (٣) أعطيته؟ " قال: لا، قال: "فلا أشهد على جور" (٤).مولانا محمد اویس سرور
شعبی سے روایت ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ میرے والد محترم ، مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئے تاکہ آپ کو ایک ہبہ کا گواہ بنا سکیں جو انہوں نے مجھے عطا فرمایا تھا، آپ نے پوچھا ” کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ بھی کچھ مال ہے ؟ انہوں نے عرض کیا ” جی ہاں “ آپ نے پوچھا ” کیا تم نے ہر بچے کو اس جیسا مال دیا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا ” نہیں “ اس پر آپ نے فرمایا ” میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا “۔
حواشی
(١) زياد؛ (كلهم) من: [أ، ب، جـ، م].
(٢) في [ك، م]: (أعطيته).
(٣) سقط من: [ب، هـ].