حدیث نمبر: 33041
٣٣٠٤١ - حدثنا عباد عن حصين عن الشعبي قال: سمعت النعمان بن بشير يقول: أعطاني أبي عطية، فقالت أمي عمرة (ابنة) (١) رواحة: فلا أرضى حتى (تشهد) (٢) رسول اللَّه ﷺ فأتى رسول اللَّه ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إني أعطيت ابن عمرة عطية، فأمرتني أن أشهدك، (فقال) (٣): "أعطيت كل ولدك مثل هذا؟ " قال: لا، قال: " (اتقوا) (٤) اللَّه، واعدلوا بين أولادكم"، قال: فرجع فرد عطيته (٥).
مولانا محمد اویس سرور

شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے والد محترم نے مجھے کچھ مال دیا تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے فرمایا کہ میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک آپ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ نہ بنالیں، چناچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے عمرہ کے بیٹے کو کچھ مال دیا ہے، وہ کہتی ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں، آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے اتنا مال اپنے ہر بچے کو دیا ہے ؟ وہ فرمانے لگے کہ نہیں ! آپ نے ارشاد فرمایا کہ ” اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے درمیان برابری کیا کرو “ فرماتے ہیں انہوں نے واپس آ کر اپنا مال واپس لے لیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (بنت).
(٢) في [م]: (يشهد).
(٣) في [م]: (قال).
(٤) في [م]: (فاتقوا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 33041
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٥٨٧)، ومسلم (١٦٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33041، ترقيم محمد عوامة 31636)