مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الوصايا
في الرجل يفضل بعض ولده على بعض باب: اس آدمی کا بیان جو اپنے کچھ بچوں کو دوسروں پر ترجیح دے
حدیث نمبر: 33040
٣٣٠٤٠ - حدثنا ابن عليه عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: أحق تسوية النِّحَل بين الولد على كتاب اللَّه؟ قال: نعم، وقد (بلغنا) (١) ذلك عن نبي اللَّه ﷺ أنه قال: " (سويت) (٢) بين ولدك؟ " قلت: في النعمان؟ قال: وغيره زعموا (٣).مولانا محمد اویس سرور
ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا کتاب اللہ کی رُو سے بچوں کو مال دینے میں برابر ی ضروری ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے صحابی سے پوچھا تھا کہ کیا تم نے اپنے بچوں میں برابری کی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ یہ بات حضرت نعمان کے بارے میں منقول ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ محدثین فرماتے ہیں کہ کچھ اور صحابہ کے بارے میں بھی یہی بات منقول ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (فعلنا).
(٢) في [ط، هـ]: (أسويت).