مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يصلي الظهر إذا زالت الشمس ولا يبرد بها باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی ، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
حدیث نمبر: 3304
٣٣٠٤ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان قال: حدثني ميمون بن مهران: أن سويد بن غفلة كان يصلي الظهر حين تزول الشمس، فأرسل إليه الحجاج لا تسبقنا بصلاتنا، فقال سويد: قد صليتها مع أبي بكر وعمر هكذا، والموت أقرب إليَّ من أن أدعها (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مہران کہتے ہیں کہ حضرت سوید بن غفلہ سورج کے زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کرلیا کرتے تھے۔ حجاج نے انہیں پیغام بھجوا کر کہا کہ ہم سے پہلے نماز نہ پڑھا کریں۔ حضرت سوید نے جواب میں فرمایا کہ میں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے ساتھ یونہی نماز پڑھی ہے۔ مجھے اس عمل کو چھوڑنے سے موت زیادہ پسند ہے۔
حواشی
(١) منقطع؛ ميمون لا يروي عن سويد.