مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الوصايا
رجل أوصى وترك مالا ورقيقا فقال: عبدي فلان لفلان باب: اس آدمی کا بیان جس نے وصیت کی اور ترکے میں مال اور غلام چھوڑے، اور یوں کہا: میرا فلاں غلام فلاں کے لیے ہے
٣٣٠٣٣ - حدثنا جرير عن عبد الكريم بن رفيع قال: توفي رجل بالري وترك مالا ورقيقًا فقال: عبدي فلان لفلان وعبدي فلان لفلان، (فلم) (١) تبلغ وصيته الثلث، فلما أقبل بالرقيق إلى الكوفة مات بعض رقيق الورثة، ولم يمت رقيق الذي أوصى لهم، فسألت إبراهيم فقال: يعطى أصحاب الوصية على ما أوصى به صاحبه.عبد الکریم بن رفیع فرماتے ہیں کہ رےؔ میں ایک آدمی فوت ہوگیا اور اس نے مال اور غلام ترکے میں چھوڑے، اور وصیت میں کہا : میر افلاں غلام فلاں کے لئے ہے، اور فلاں غلام فلاں شخص کے لئے ہے، اور اس کی وصیت ایک تہائی مال تک نہیں پہنچی ، پھر جب غلاموں کو کوفہ لایا گیا تو بعض غلام مرگئے، اور وہ غلام نہیں مرے جن کی اس نے ان لوگوں کے لئے وصیت کی تھی، میں نے اس معاملے کے بارے میں ابراہیم سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا جن لوگوں کے غلاموں کی وصیت کی گئی ہے ان کو وصیت کرنے والے کی وصیت کے مطابق غلام دے دیے جائیں۔