مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الوصايا
في الرجل يكون له المال القليل أيوصي فيه؟ باب: اس آدمی کا بیان جس کے پاس تھوڑا سا نیا مال ہو ، کیا وہ اس میں وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 32995
٣٢٩٩٥ - حدثنا أبو معاوية عن محمد بن شريك عن ابن أبي (مليكة) (١) عن عائشة قال: قال لها رجل: إني أريد أن أوصي، قالت: كم مالك؟ قال: ثلاثة آلاف، قالت: فكم عيالك؟ قال: أربعة، (قالت) (٢): فإن اللَّه يقول: ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ وإنه شيء يسير فدعه لعيالك فإنه أفضل (٣).مولانا محمد اویس سرور
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ میں وصیت کرنا چاہتا ہوں ، انہوں نے پوچھا تیرے پا س کتنا مال ہے ؟ عرض کیا : تین ہزار، آپ نے پوچھا تیرے اہل و عیال کتنے افراد ہیں ؟ کہنے لگا ، چار، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے یہ شرط ذکر فرمائی ہے ” اگر مال چھوڑے “ اور تیرے پاس تو بہت معمولی سا مال ہے اس کو اپنے بچوں کے لئے چھوڑ دو ، یہی افضل ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (لميكة).
(٢) في [جـ، م]: (فقالت).