مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الوصايا
في الرجل يكون له المال القليل أيوصي فيه؟ باب: اس آدمی کا بیان جس کے پاس تھوڑا سا نیا مال ہو ، کیا وہ اس میں وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 32993
٣٢٩٩٣ - حدثنا زيد بن حباب عن (همام) (١) عن قتادة ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ﴾ [البقرة: ١٨٠]، قال: خير المال، كان يقال: ألف درهم فصاعدًا.مولانا محمد اویس سرور
ھمام سے روایت ہے کہ حضرت قتادہ نے فرمان باری تعالیٰ {إنْ تَرَکَ خَیْرًا الْوَصِیَّۃُ } کی تشریح میں فرمایا : اس وقت لوگوں میں یہ بات معروف تھی کہ بہتر مال ایک ہزار درہم ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (خيثم).