حدیث نمبر: 32991
٣٢٩٩١ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن إبراهيم عن الأسود قال: ذكروا عند عائشة أن عليا كان وصيًا، فقالت: متى أُوصى إليه؟ فلقد كنت مستندته (إلى) (١) حجري (فانخنث) (٢)، فمات فمتى أوصى إليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور

أسود فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی تھے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کب وصیت کی تھی ؟ میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی گود میں ٹیک دے رکھی تھی کہ آپ کا جسم مبارک ڈھیلا پڑگیا اور آپ وفات پا گئے، تو پھر ان کو وصیت کب فرمائی ؟

حواشی
(١) في [م]: (في).
(٢) في [أ، ب]: (فانحنيت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32991
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٧٤١)، ومسلم (١٦٣٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32991، ترقيم محمد عوامة 31587)